
کربلائی شخصیات کے اوصاف بصیرت و زمانہ شناسی
ہم زیارت اربعین میں پڑھتے ہیں «امام حسین بن علیؑ نے تیری راہ میں اپنی جان فدا کر دی تاکہ تیرے بندوں کو نادانی اور گمراہی کی سر گردانی و حیرانی سے نجات دلائیں۔» کہ عاشورہ برپا ہونے کی وجوہات میں سے ایک جہالت ہے، جہالت یہ نہیں کہ امام حسین ؑ نے اس لیے قیام کیا کہ اَن پڑھ لوگ پڑھنا لکھنا سیکھ لیں بلکہ یہاں جہالت عقل کے مقابلے میں ہے۔ لوگوں کا فکری بلوغ سے بے بہرہ، بصیرت سے عاری ہونا اور حق و باطل کے درمیان فرق نہ کر سکنے کا منشا جہالت ہے۔
شہدائے کربلا فہم و بصیرت کے مالک تھے۔ بنو امیہ کے ظلم و ستم کے سیاہ دور اور گرد آلود ماحول میں رہتے ہوئے حق کو جانتے اور پہچانتے تھے کہ حق، فرزند زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ ہے اور بنو امیہ باطل پر ہیں۔
شب عاشورا جب امام ؑ نے سب اصحاب سے اپنی بیعت اٹھا لی تو حضرت نافع بن ہلال نے فرمایا: مولاؑ ہم اپنی نیت و ارادوں پر قائم ہیں۔


































