
غزہ کی پٹی میں عام رہائشی گھروں، اسکولوں، مساجد، گرجا گھروں اور حتیٰ ہسپتالوں کے خلاف بھی غاصب و سفاک صیہونی رژیم کے جنگی جرائم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عالمی برادری کی پراسرار خاموشی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ بھی صرف ”از قبل انتباہ” جاری نہ کئے جانے پر نالاں ہے۔
تفصیلات کے مطابق غزہ کے شمالی علاقہ جات میں فعال واحد فلسطینی ہسپتال کمال عدوان پر وحشیانہ بمباری سے متعلق غاصب و سفاک صیہونی رژیم کے انسانیت سوز اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی اقوام متحدہ نے گلہ کیا ہے کہ شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال پر بمباری سے قبل کوئی ”انتباہ” جاری نہیں کیا گیا تھا۔ کینیڈین خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق غاصب صیہونی رژیم کے ان ہوائی حملوں میں کم از کم 39 فلسطینی شہری شہید ہوئے ہیں جبکہ اس حملے کے نتیجے میں بے گھر فلسطینی پناہ گزینوں کی خیمہ بستی میں بھڑک اٹھنے والی آگ میں جھلس کر بھی کم از کم 20 پناہ گزین شہید ہوئے ہیں۔
اس صیہونی جرم پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ریک پیپر کارن نے بھی کہا ہے کہ اس ہسپتال میں انڈونیشیا کی طبی ٹیم کی آمد کے ایک ہفتے بعد انجام پانے والا یہ حملہ ”انتہائی تشویشناک” تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے مزید کہا کہ یہ حملہ "انتہائی تشویشناک تھا اور ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیئے تھا!”


































