
خصوصی رپورٹ:
جنگِ رمضان کے معزز شہداء کے اہلِ خانہ کی تعظیم و تکریم کے لیے دفترِ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کی میزبانی میں تہران میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں شہید فاؤنڈیشن کے بعض عہدیداران اور شہداء کے اہلِ خانہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ تقریب سید الشہداء ہال میں منعقد ہوئی۔ مرجع عالم تشیع آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے نمائندے آیت اللہ محقق نے میناب کے اسکول کی تعمیر نو کے لیے 50 لاکھ ڈالر مختص کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کے عوام کے لیے آیت اللہ سیستانی کی امداد اور حمایت کا حصہ ہے۔ آیت اللہ محقق نے جنگِ رمضان کے شہداء کے اہل خانہ کی تکریم اور اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی، دفاعِ مقدس اور حالیہ جنگ کے شہداء کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کا مقام نہایت بلند اور عظیم مقام ہے اور یہ مقام ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسلامی معارف میں رسول اکرم ﷺ کے بلند مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کا مہینہ اللہ کے رسول ﷺ سے منسوب مہینہ ہے اور روایات و دعاؤں میں رسول اکرم ﷺ کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔ مناسب ہے کہ ایسے ایام میں رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبے کا احترام کرتے ہوئے شہداء کی یاد اور ان کی قربانیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔
شہید کا مقام، ایسا مرتبہ جس کے باعث دنیا میں واپسی کی آرزو پیدا ہوتی ہے:
آیت اللہ محقق نے شہداء کے مقام و مرتبے کے حوالے سے ایک روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ صحیح سند سے منقول روایات میں آیا ہے کہ جب اہل ایمان جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک فرشتہ اہل جنت سے پوچھے گا کہ کیا وہ دوبارہ دنیا میں واپس جانے، ایک بار پھر موت کا سامنا کرنے اور دوبارہ جنت میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دنیا میں واپس جانے کے لیے آمادگی ظاہر کریں گے، وہ شہداء ہوں گے؛ کیونکہ انہوں نے شہادت کی عظمت اور اس کے بلند مقام کو اس قدر محسوس کیا ہوگا کہ وہ دوبارہ دنیا کی مشکلات اور موت کی سختی برداشت کرنے کے لیے بھی تیار ہوں گے، تاکہ ایک بار پھر مقامِ شہادت حاصل کر سکیں۔
آیت اللہ سیستانی کے نمائندے نے اس کے بعد شہید محسن حججی کی شہادت کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شہید حججی کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ خواب میں ان سے ان لمحات کے بارے میں پوچھا گیا جب انہیں شہادت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کا سر تن سے جدا کیا گیا۔ آیت اللہ محقق نے مزید کہا: اس روایت کے مطابق، شہید حججی نے بتایا تھا کہ ان لمحات میں حضرت اباعبداللہ الحسینؑ ان کے سامنے جلوہ فرما ہوئے اور وہ سیدالشہداء امام حسینؑ کے جمال میں اس قدر محو ہوگئے کہ انہیں اپنی تکلیف اور شہادت کے طریقے کا احساس ہی نہ رہا۔ انہوں نے کہا: یہی وہ بلند مقام ہے جو شہید کو حاصل ہوتا ہے، ایسا مقام جو انسان کو شہادت کے لمحے کی تکلیف اور سختی سے گزار دیتا ہے۔
آیت اللہ سیستانی کی حالیہ جنگ کے شہداء کے اہل خانہ کی خبرگیری پر تاکید:
حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے نمائندے نے حالیہ جنگ سے متاثرہ افراد کی حمایت کے لیے کیے گئے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ سیستانی نے میناب میں ایک اسکول کی تعمیر کے لیے 50 لاکھ ڈالر اور میناب کے شہداء کے اہل خانہ کے لیے تقریباً 9 سے 10 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔ یہ اقدام آیت اللہ سیستانی کی عوام اور جنگ سے متاثرہ خاندانوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ سے موجود فکر و تشویش کے تحت کیا گیا ہے۔ آیت اللہ محقق نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں حالیہ جنگ کے شہداء کے اہل خانہ کی خبرگیری کے لیے کیے گئے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس وفد نے بھرپور کوششوں کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں کا سفر کیا اور حالیہ جنگ میں شہید یا زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کی خبرگیری کی۔
انہوں نے کہا: یہ اقدامات حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کی ہدایت اور ان کی خصوصی توجہ کے تحت انجام دیے گئے اور وہ ابتدا ہی سے اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کے لیے خاص محبت اور عنایت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نجف اشرف میں آیت اللہ سیستانی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ملاقات میں، اگرچہ ہم صرف ان کی خدمت میں حاضری دے کر ادب و احترام پیش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن آیت اللہ سیستانی نے تقریباً 25 منٹ تک مختلف مسائل پر گفتگو فرمائی۔ آیت اللہ محقق نے مزید کہا کہ ملاقات کے اختتام پر میں نے ان سے درخواست کی کہ ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں ہر روز صبح نماز کے بعد حضرت ولی عصرؑ کو سلام بھیجتا ہوں، تمام مومنین کے لیے دعا کرتا ہوں اور اس کے بعد ایران کے لیے دعا کرتا ہوں۔
جب تک اسلامی انقلاب کا چراغ روشن ہے، دنیا بھر کے شیعہ مضبوط و سربلند رہیں گے، آیت اللہ سیستانی
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سیستانی کا یہ فرمان ہمارے لیے بہت غور طلب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ چراغ روشن ہے اور یہ شمعیں ٹمٹما رہی ہیں، عراق، یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں موجود شیعہ مضبوط و سربلند رہیں گے۔ آیت اللہ محقق نے کہا: ممکن ہے آئندہ راستے میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، لیکن شہداء کے خون اور اسلامی انقلاب کے عظیم بانی کے خون کی برکت سے یہ چراغ ان شاء اللہ ہمیشہ روشن رہے گا۔ انہوں نے تاکید کی: حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں ہی سے اس کے لیے خصوصی عنایت کا اظہار کیا ہے اور آج بھی حالیہ جنگ کے دوران اپنے اشاروں اور ہدایات کے ذریعے لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی دعوت دی۔
شہداء کے اہل خانہ کی سرپرستی کے لیے آیت اللہ سید جواد شہرستانی کے نمائندے کی بھرپور کوششیں:
آیت اللہ محقق نے ایران میں آیت اللہ سیستانی کے نمائندے آیت اللہ سید جواد شہرستانی کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ شہرستانی نے اس عرصے کے دوران شہداء کے اہل خانہ اور حالیہ جنگ سے متاثرہ افراد کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی دن رات کی تمیز کیے بغیر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ تھکن، بھوک اور پیاس بھی ان کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں بنی، کیونکہ ان کی بنیادی فکر یہ تھی کہ شہداء کے اہل خانہ کے لیے جتنی جلد ممکن ہو کوئی خدمت انجام دی جائے۔ آیت اللہ محقق نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ شہداء کے اہل خانہ کو یہ احساس ہو کہ نجف اشرف میں ایک بزرگ اور جلیل القدر مرجع تقلید موجود ہیں جو ان کی فکر رکھتے ہیں اور ان کے حالات سے بے خبر یا لاتعلق نہیں ہیں۔ انہوں نے آخر میں شہداء کے معزز اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی موجودگی اور ان کی قربانیاں ملتِ ایران کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہیں اور ہمیں ان کے صبر، استقامت اور فداکاری کی قدر کرنی چاہیے۔


































