
جنیوا : اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے مطالبہ کیا ہے کہ غاصب اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی فوری طور پر بند کی جائے ورنہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنی انسانیت سوز کارروائیاں جاری رکھے گا۔فرانسسکا البانیز نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بہت سے مغربی ممالک فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین صیہونی خلاف ورزیوں کو روکنے میں کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں۔ غاصب ریاست کو دہائیوں سے فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر استثنیٰ حاصل ہے۔ فرانسسکا البانیز نے واضح کیا کہ ان کی رائے میں یہودی دشمنی کی تہمت ایک بہت بڑے فریب کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے، خاص طور پر یورپ میں یہودیوں سے نفرت کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فرانسسکا البانیز نے اشارہ کیا کہ نسلی کشی اور نسل پرستانہ تطہیر کا مطلب فلسطینی زمین کو فلسطینیوں سے خالی کرانا ہے، جو کہ ان لوگوں کا ایک طویل مدتی ہدف ہے جو فلسطین کو صرف یہودیوں تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزراء کے اعلانات کے مطابق حکومت فلسطینیوں کے سامنے دو ہی راستے رکھ رہی ہے: یا تو وہ فلسطین چھوڑ دیں یا پھر بدترین ظلم و ستم کے سائے میں زندگی گزاریں۔


































