
اربعین کی مناسبت سے ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مختلف مواقعوں پر دیے گئے پیغامات:
حسین ابن علی(ع) کی شہادت تمام شہادتوں سے بڑھ کر ہے، یہ چودہ سو سال بعد بھی
دلوں کو اپنی طرف مقناطیس کی طرح کھینچتی ہے۔ اربعین دیکھیں معراج دیکھیں، قبر حسین دیکھیں اور اس کی زیارت کیلئے نوجوانوں کی آرزو دیکھیں۔ نجف تا کربلا راستے میں لوگوں کی خدمات دیکھیں۔ یہ کشش ہے یہ وہ نعمت ہے جو خدا نے دی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں دس ہزار لوگ، پچاس ہزار لوگوں کو ایک جگہ جمع نہیں کیا جاسکتا۔ اشتہارات کی کتنی ہی کوشش کی جائے ہزاروں کا اجتماع نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں بہت سی رکاوٹوں کے باوجود کروڑوں لوگ اسی(80) کلومیٹر پیدل چلنے کیلئے نکل پڑتے ہیں۔ یہ ایک الہیٰ واقعہ ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ راستہ محبت کا راستہ ہے۔ لیکن بصیرت کے ساتھ محبت ۔ یہ تحریک محبت و ایمان کی تحریک ہے۔
انہوں اربعین حسینی کے عظیم اور پیدل سفر کو پورے عالم اسلام میں، جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے کی تقویت اور شہادت کے لیے آمادگی کی علامت قرار دیا۔ اربعین ہمیشہ سے ہے لیکن آج یہ ایک بہت بڑی تحریک ہے۔ یہ نہیں ہمارے پاس نہیں تھا اب ہے تو ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اس نعمت الہی کا شکر یہ ہے کہ اربعین ملین مارچ کے دوران جو برادری، اخوت، بھائی چارے، مہربانی اور عشق ولایت کا جذبہ کار فرما رہا اس کو محفوظ رکھا جائے۔ لاکھوں لوگ پیادہ روی کرتے ہیں جن کا تعلق کسی ایک ملک سے نہیں بہت سے ممالک سے ہے اس میں کسی خاص فرقے سے نہیں تمام فرقوں اور مذاہب کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔
ولی امر مسلمین نے کہا کہ امام حسین کا تعلق صرف ہم سے نہیں شیعہ سنی سمیت تمام مذاہب امام حسین علیہ السلام کے پرچم تلے ہیں۔ وہ پیشگوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس عظیم معارج میں وہ لوگ بھی شرکت کریں گے جو ہیں تو مسلمان لیکن غیر مذہب ہیں اور انشااللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ وہ قوم کے اتحاد پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں اربعین میں درجنوں ممالک کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور عراقیوں کے مہمان ہوتے ہیں۔ اس طرح شیعہ سنی، عراقی اور غیر عراقی، کردوں اور ترکوں کے درمیان ربط اور بندھن خوشی کا باعث ہے۔ یہ بندھن خدا کی رحمت کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اس اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے لیکن خدا کی قدرت سے و ہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔
آپ نے اربعین مارچ کے الہی اور روحانی واقعے کو بے مثال واقعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ حکومت عراق اور عراقی عوام کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے جنہوں نے انتہائی مخلصانہ اور والہانہ انداز میں زائرین حسین کی مہمان نوازی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق دو قومیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ہمارے جسم، ہمارے دل اور روحیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ جس چیز نے یہ تعلق پیدا کیا ہے وہ خدا پر ایمان اور اہلبیت(ع) سے محبت ہے۔ یہ حسین ابن علی سے محبت ہے اور دن بہ دن یہ بڑھتی جائے گی۔ شیعہ سنی کو متحد ہونا چاہئے ایک دوسرے سے شکوک وشبہات نہیں رکھنا چاہئے۔ صرف ایران اور عراق سے نہیں امریکا یورپ اور پوری دنیا سے لوگ اس تحریک میں شرکت کیلئے آتے ہیں۔ دو تین دن یا اس سے زیادہ دن اس راستے پر سفر کرتے ہیں۔
عراق کے لوگ ان کا بڑی شان اور محبت سے استقبال کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی اور بامعنی تحریک ہے کامیاب ہونے والوں کو اس پر فخر کرنا چاہئے۔ اربعین مارچ میں دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگوں کی بڑے پیمانے میں شرکت کو ایسا عظیم واقعہ قرار دیا کہ جس سے راہ خدا میں جہاد کی سوچ بلند ہونے اور عمومی آمادگی اور تیار ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اربعین کا جلوس اسلامی امت کیلئے فتح کی علامت ہے۔ ایسے میں جب دشمن اسلام کیخلاف پیسے، طاقت اور ہر طرح سے کام کر رہے ہیں اللہ تعالی اس تحریک کو عظمت عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا یہ حسینی تحریک زمانے میں امام حسین کا پیغام پھیلانے میں مدد کرتی ہے۔ دنیا کی نظریں نجف سے کربلا تک چلنے والی اس تحریک کی جانب مبذول ہیں۔ آج ہمیں حسین ابن علی کو دنیا سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ ظلم وچجور میں گھری دنیا کو حسینی آزادی کے علم کی ضرورت ہے۔


































