
لوگوں کے روئے میں تبدیلی آئی ہے وہ اسرائیل سے دشمنی کم اور قبولیت زیادہ دکھارہے ہیں،ان چیزوں کو الحاق کے فیصلے سے نقصان پہنچے گا،سفیر عرب امارات
مشترکہ مفادات کی بات تعلقات معمول پر لانے کیلئے تل ابیب انتظامیہ کی کھلی چاپلوسی ہے،حماس، فلسطینیوں کی پشت میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے، اسلامی جہاد
غزہ (نیوز ڈیسک) امریکا میں عرب امارات کے سفیر یوسف العطیبہ نے خلیجی ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کا اعتراف کرلیا ، اسرائیلی اخبار یدیعوت احارونوت کیلئے لکھے گئے مقالے میں یوسف العطیبہ نے کہا کہ خطے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارت کے درمیان مشترکہ مفادات ہیں ،اگر اسرائیل نے غرب الاردن کے علاقوں کو ضم کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کیا تو عرب دنیا اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سلامتی ، معاشی اور ثقافتی تعلقات میں بہتری کے لئے اسرائیلی خواہشات متاثر ہوں گی، انہوں نے لکھا کہ آپ نے جو ساری پیشرفت دیکھی ہے اور اسرائیل کے ساتھ جو روئے میں تبدیلی آئی ہے اور لوگ اسرائیل کو زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کم دشمنی دکھارہے ہیں ، ان سب باتوں کو الحاق کے فیصلے کی وجہ سے نقصان پہنچ سکتا ہے ، حماس اور جہاد اسلامی نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کی کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،حماس کے ترجمان حازم القاسم نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارت کے درمیان مشترکہ مفادات کے حصول کی بات کرنا، صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول لانے کیلئے تل ابیب انتظامیہ کی کھلی چاپلوسی ہے،حماس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرنے والوں کو یہ سلسلہ فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے، جہاد اسلامی کے رہنما احمد المدلل نے اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی اور دفاعی تعلقات کیلئے متحدہ عرب امارات کی تگ و دو کو خطے کی سلامتی اور استحکام کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا ،انہوں نے اسے فلسطینیوں کی پشت میں چھرا گھوپنے کے مترادف قرار دیا۔


































