
Oplus_16908288
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
ٹرمپ کے غزہ کو ریزورٹ میں تبدیل کرکے امریکی ملکیت میں لینے کے اعلان نے تہلکہ مچا دیا۔ مزید یہ کہا گیا کہ فلسطینیوں کو اردن اور مصر منتقل کر دیا جائے گا۔اس تجویز کے آتے ہی مسلمان دنیا میں شدید ردعمل آیا اور عرب حکمرانوں نے بھی ایسے بیانات دیئے، جیسے وہ فلسطینیوں کی محبت میں اس منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔ ایسے حالات میں یہ چاہیئے تھا کہ او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جاتا اور اس میں تمام ممالک کی رائے لی جاتی۔ عرب حکمران آج تک عرب عصبیت سے باہر نہیں نکل سکے، جب انہیں اسرائیل دھمکاتا ہے تو امت مسلمہ کو پکارتے ہیں اور جب خریدو فروخت کرنی ہوتی ہے تو کسی کو پوچھتے بھی نہیں ہیں۔ عرب ممالک مصر میں جمع ہو رہے تھے، ان سے امید تھی کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے پر سنجیدہ موقف اپنائیں گے۔
زیادہ سے زیادہ وہ غزہ اور مغربی کنارے میں نئے الیکشن کروا کر نئی حکومت کے ساتھ چلنے کا مطالبہ کریں گے کہ غزہ کی تعمیر نو نئی منتخب فلسطینی حکومت کرے گی۔ پیش کردہ منصوبے کی اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ تکلیف دہ ہیں۔ بی بی سی کے مطابق اسے عرب لیگ کی جانب سے منظور شدہ لیک کاپی ملی ہے، جس میں یہ درج ہے کہ غزہ عرب ریاستوں اور فلسطینیوں کی ملکیت ہے۔ٹرمپ کے منصوبے کا متبادل مصر کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، جو 91 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں دلکش اماراتی ڈیزائنز ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت غزہ کے 20 لاکھ سے زیادہ رہائشیوں کو اپنی اس زمین پر رہنے کا حق دیا گیا ہے، جسے ان کے خاندان کی کئی نسلیں اپنا گھر کہتی ہیں۔
اس منصوبے نے سب سے پہلے عرب ریاستوں کو غزہ کی ملکیت میں شامل کیا ہے۔ یہاں فلسطینی ریاست کی بات نہیں ہوئی، عرب ریاستوں کے ساتھ فلسطینی شہری غزہ کے مالک ہیں۔ سبحان اللہ، یہ عملی طور پر اس بات کا اقرار ہے کہ یہ لوگ فلسطینی ریاست سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کو غزہ کی تعمیر نو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اردن اور مصر کا صرف یہ درد سر ہے کہ فلسطینی ہمارے پاس نہ بھیجے جائیں۔ دوسرے عرب ممالک فقط حاضری لگوانے اور غزہ سے حصہ وصول کرنے کے لیے شریک بزم ہوئے تھے۔ کوئی بھی غیرت مند قوم ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گی۔ جب حماس اسے قبول نہیں کرے گی تو یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں گے اور اپنی عوام کو بتائیں گے، دیکھیں ہم انہیں بچانے گئے تھے، انہوں نے ہی ہماری مدد لینے سے انکار کر دیا۔
اس منصوبے میں فلسطینیوں کی زمین تیس ممالک کی ملکیت میں چلی جائے گی۔ اس منصوبے میں مصر اور اردن کی وجہ سے غزہ کے لوگوں کے غزہ میں رہنے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ لوگ اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ غزہ میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ زمین پر آج بھی حماس کا قبضہ موجود ہے، یہ آج الیکشن کروا لیں، حماس پہلے سے زیادہ سیٹیں لے کر جیتے گی۔ اس منصوبے کی بحث کے دوران کچھ عرب ممالک حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسروں کا خیال ہے کہ ان فیصلوں کو فلسطینیوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیئے۔ حماس خود کہتی ہے کہ ان کے گروپ کو غیر مسلح کرنا ان کے لیے سرخ لکیر ہے۔ اگر حماس کو غیر مسلح کیا جاتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے، جیسے نہتے لوگوں کو قصائیوں کے حوالے کر دینا۔ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ اسرائیل طاقت کی زبان کے علاوہ کوئی زبان نہیں سمجھتا۔ امن، پیار، محبت اور اس طرح کے تمام الفاظ محض وقت حاصل کرنے اور زمین کو ہتھیانے کے بہانے ہیں۔
ڈرافٹ کے متن کی لیک ہونے والی تفصیلات کے مطابق ایسی کمیٹی بنانے کی بات کی گئی ہے اور اسے غزہ مینجمنٹ کمیٹی کا نام دیا جائے گا۔ ان عرب حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ امریکہ اور اسرائیل کچھ اور ہی چاہتے ہیں۔ بنیامن نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو دور رس قرار دیا ہے اور بارہا حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے لیے بھی مستقبل میں کسی بھی کردار کو مسترد کیا ہے۔ نتین یاہو فلسطین کے وجود کی کسی بھی علامت کو قبول نہیں کرتا اور جو ہے، اسے نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔ جیسی تیسی بھی اتھارٹی ہو، وہ اس کے وجود کو برداشت نہیں کرے گا کہ کہیں کل کو یہ لوگ طاقت نہ پکڑ جائیں۔ صدر ٹرمپ تو اس بات پر مصر ہے کہ غزہ کے لوگوں کو وہاں سے نکال دیا جائے، غزہ ایک خالی پلاٹ کی طرح امریکہ کو دے دیا جائے اور امریکہ اس کو اسرائیل کے زیر سایہ ایک سیرگاہ کے طور پر تعمیر کرے، یہ امریکی حمایت کی زمین کی صورت میں قیمت ہوگی۔
ممکن ہے کوئی اگلا امریکی صدر یا یہی صدر جاتے ہوئے غزہ اسرائیل کو تحفے میں دے جائے، باقی مغربی کنارے کی کہانی ویسے ہی ختم ہوچکی ہے۔ وہاں سرکاری ملازمین ہیں، جو مزاحمت نہیں کرسکتے۔ لیں جناب حماس کا مصری منصوبے پر ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ حماس کے رہنماء سامی ابو زہری نے مصر کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینی کریں گے۔ یہ بات بالکل مناسب ہے، کیونکہ اہل مصر کی مرضی کے خلاف مصریوں کے بارے میں کوئی منصوبہ اہل مصر کو قبول نہیں ہوگا۔ ایسے ہی اہل فلسطین کو ان کی مرضی کے خلاف کوئی منصوبہ قبول نہیں ہے۔ عرب حکمران اپنی تشہیر اور اظہار وجود کے لیے آئے تھے، ان کا مقصد بھی حاصل ہوگیا۔


































