
تل ابیب : صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے قتل عام کیلئے نئی ملیشیا بنانے کی منظوری دیدی۔نیشنل گارڈز کے نام سے نئی ملیشیا قومی سلامتی کے انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر کے کنٹرول میں ہوگی۔ حکومت نے مختلف وزارتوں کے بجٹ کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ نیشنل گارڈ فورس کے لیے ایک ارب شیکل فراہم کیے جا سکیں۔ بین گویر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نئی فورس ان کی وزارت کے تحت کام کرے گی اور ہنگامی حالات، قوم پرستانہ جرائم، دہشت گردی سے نمٹے گی اور خودمختاری کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرے گی۔رپورٹ کےمطابق فورس کی منظوری ایتمار بن گویر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان معاہدے کے تحت دی گئی جس کے بدلے بن گویر نے عدالتی ترامیم کو منجمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق سیکیورٹی اداروں پر مشتمل کمیٹی نیشنل گارڈ کے اختیارات کا تعین کرے گی اور آیا یہ پولیس کے ماتحت ہو گی یا بین گویر سے براہ راست حکم لے گی۔ حماس نے اسرائیلی حکومت کے فلسطینیوں پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے ایک آبادکار ملیشیا بنانے کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ حماس کے ترجمان جہاد طحہ نے کہا کہ آباد کار ملیشیا فلسطینیوں کو مزید دبانے اور قتل عام کرنے کے لیے تل ابیب کے ہاتھ میں ایک انتہا پسند قوت ہوگی۔


































