
ایران کورونا وائرس کی وجہ سے سخت مشکل میں ہے، ایران نواز ملیشیاؤں کے مجموعے کو تباہ کرنے کیلئے آپریشن کی تیاری کی جائے،پینٹاگون کا عسکری قیادت کو حکم
وزیر دفاع مارک ایسپر نے اجازت دیدی، امریکی افواج کا نشانہ حشد الشعبی اور کتائب حزب اللہ ہوں گے، قیادت، اس کے مراکز اور ہتھیاروں کے گودام نشانہ ہوں گے
نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکا نے عراق میں اپنی مخالف عسکری تنظیموں کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کرلی، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے عسکری قیادت کو حکم دیا ہے کہ ایران نواز ملیشیاؤں کے مجموعے کو تباہ کرنے کیلئے آپریشن کی تیاری کی جائے، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ اوبرائن سمیت بعض سینئر عہدے داران عراق میں ملیشیاؤں کے خلاف آپریشن کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کورونا وائرس کی وجہ سے سخت مشکل میں ہے اور اسکی عسکری قوت بھی وبا سے لڑنے میں مصروف ہے لہذا یہ بہترین موقع ہے کہ اس کی حامی ملیشیا کیخلاف کارروائی کرکے انہیں تباہ کردیا جائے،اخبار کے مطابق مائیک پومپیو اور چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی سمیت کئی سینئر عہدے داران عراقی سیکیورٹی فورسز پر زور دے چکے ہیں کہ وہ امریکی فوج پر حملے کرنے والی شیعہ ملیشیاز کے خلاف سخت اقدامات کرے، ورنہ امریکا خودایسا کرنے پر مجبور ہو جائے گا، وزیر دفاع مارک ایسپر نے عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے باوجود وہاں نئی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کی اجازت دے دی ہے،رپورٹ کے مطابق امریکی افواج کا نشانہ حشد الشعبی اور کتائب حزب اللہ ہوں گے آپریشن میں براہ راست ہدف کتائب حزب اللہ کی قیادت، اس کے مراکز اور ہتھیاروں کے گودام ہوں گے،میزائلوں کا وسیع ذخیرہ بھی نشانے پر ہو گا،اخبار کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ امریکا کی وسیع تر عسکری مہم میں عراق اور شام میں وسیع پیمانے پر ملیشیا کے اہداف کو نشانہ بنایا جائے۔


































