
واشنگٹن: جوبائیڈن حکومت بھی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی حمایت کررہی ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ نے اب تک چار مرتبہ اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے ناکام بنایا ہے۔ اس طرح گذشتہ آٹھ مہینوں کے دوران غزہ میں 35 ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت میں عملی طور پر شریک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ امریکی دوغلی پالیسی کا دائرہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کمیشن سے نکل کر عالمی عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ صدر جوبائیڈن نے کینیا کے ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ہم نے عالمی عدالت کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا ہے۔ ہم عالمی عدالت کو کسی فیصلے کے اہل نہیں سمجھتے ہیں۔
اگر عالمی عدالت کے فیصلوں کے بارے میں امریکی ردعمل کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو امریکی دوغلی پالیسی کھل کر سامنے آتی ہے۔ جب دو سال قبل عالمی عدالت نے یوکرائن کے خلاف جنگ شروع کرنے پر روسی صدر پوٹن کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تو جوبائیڈن نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پوٹن کی گرفتاری کے بارے میں عدالت کا فیصلہ معقول ہے۔ جبکہ آج اسرائیل کیخلاف فیصلہ دینے پر اسے مسترد کردیا ہے۔


































