
Oplus_16908288
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں غزہ میں مزاحمت کی فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی مزاحمت کے رہنماؤں اور مجاہدین نے "اتحاد اور یکجہتی” اور "دشمن کے خلاف کھڑے رہنے” اور مذاکرات کے پیچیدہ عمل کو آگے بڑھانے میں جس صبر اور استقامت سے کام لیا، اس نے خطے میں مزاحمت کو ایک نئی طاقت عطا کی ہے۔ رہبر انقلاب نے اسلامی مزاحمت اور غزہ کے عوام کی صیہونی اور امریکی دشمنوں کے خلاف فتح کو بہت عظیم بیان کیا اور اس فتح کو مزاحمت کی جدوجہد میں ایک نیا مرحلہ قرار دیا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ اور فلسطین کے بارے میں امریکہ کے بعض احمقانہ منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور جن لوگوں نے ڈیڑھ سال قبل مزاحمت کو مختصر وقت میں ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہ اب اپنے قیدیوں کو مزاحمتی جنگجوؤں کے حوالے کر رہے ہیں اور اس کے بدلے میں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی قیدیوں کی رہائی کے لئے مزاحمت کا طریقہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے مزاحمت کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "اب عالمی رائے عامہ فلسطینیوں کے حق میں ہے اور ان حالات میں مزاحمت اور غزہ کے لوگوں کی رضامندی کے بغیر کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوگا۔”
اس ملاقات میں فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب زیاد النَّخالة نے رہبر انقلاب کو غزہ میں مزاحمت کی عظیم فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے اس فتح کو اسلامی جمہوریہ ایران کی مستقل حمایت اور شہید سید حسن نصراللہ کی رہنمائی کا سہرا قرار دیا اور کہا کہ فلسطینی مزاحمت پچھلے ڈیڑھ سال میں دراصل امریکہ اور مغرب کے ساتھ حالت جنگ میں تھی اور طاقت کے توازن میں عدم مساوات کے باوجود فلسطینی مزاحمت بڑی فتوحات حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
جہاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے فلسطینی اور لبنانی مزاحمتی گروپوں کے میدان میں ڈٹ جانے اور ان کے سیاسی اتحاد کو غزہ کی فتح میں ایک اہم عنصر قرار دیا۔ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفتوں، مذاکرات اور معاہدے کے عمل کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: ہم مزاحمت کا راستہ کبھی نہیں بھولیں گے اور مزاحمت کے ایک سپاہی کی حیثیت سے اس راستے کو جاری رکھیں گے۔


































