
تہران : ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں خلل کا الزام ایران پر عائد کرنے کی امریکی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے غیرقانونی جنگ شروع کی اور اب اس کا بل پوری دنیا کو بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ اٹھائیس فروری سے پہلے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی تھی، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا امریکا نے خطے پر غیرقانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی، جس سے تجارتی بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت متاثر ہوئی، ٹینکر رک گئے، تجارت میں خلل پڑا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ بقائی نے کہا کہ امریکا اب اپنی پیدا کردہ صورتحال کا بل دنیا کے سامنے پیش کرنے اور اس پر ایران کا نام لکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن کے بیانیے میں امریکا کی شروع کی ہوئی جنگ کو بھی دنیا کے لیے ایران کے رویے کی قیمت قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا نے جنگ شروع کی، لیکن اب چاہتا ہے کہ پوری دنیا اس کی قیمت ادا کرے اور ایران کو اس افراتفری کا ذمہ دار ظاہر کیا جائے. انہوں نے اس دعوے کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا.


































