سعودی اقدامات سے واضح ہوگیا کہ یمن جنگ نے سعودیہ کے لئے مسائل و مشکلات پیدا کر دی ہیں
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ریاضتی اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت، یمن پر جارحیت کے ایک سال کے بجٹ کا صرف پچّیس فیصد کے برابر ہو گی اور بہتر یہ ہو گا کہ سعودی حکومت اپنے شہریوں پر دباو¿ ڈالنے کے بجائے یمن کے خلاف جنگ و جارحیت بند کرے۔یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے اقتصادی ریاضت سے متعلق سعودی حکومت کے اقدامات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ سعودی عرب میں ٹیکس بڑھانے، بعض منصوبوں اور پروجیکٹوں پر کام روکنے اور خدماتی اداروں کا بجٹ کم کرنے سے بچنے والا پیسہ، یمن پر جارحیت کے ایک سال کے بجٹ کا صرف پچّیس فیصد حصہ ہو گا اور بہتر یہ ہے کہ سعودی حکام اپنے ملک کے شہریوں پر دباو¿ ڈالنے کے بجائے یمن کے خلاف جنگ و جارحیت کا سلسلہ بند کریں۔انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف جارحیت کا سلسلہ بند کرنا سعودی عوام کے لئے ریاضتی اقدامات سے کہیں زیادہ نفع بخش ثابت ہو گا اور اس اقتصادی مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ یمن کے خلاف جنگ بند کر دی جائے جو اس ملک کی شکست و ناتوانی کی اصل وجہ ہے۔انہوں نے جنگ یمن میں سعوی عرب کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ریاضت سے متعلق عمل میں لائے جانے والے سعودی اقدامات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ جنگ یمن نے سعودی عرب کے لئے مسائل و مشکلات پیدا کر دی ہیں اور ہر وہ جنگ پسند حکومت جو جارحیت میں دلچسپی رکھتی ہے، اسے اس قسم کے مسائل و مشکلات سے ضرور روبرو ہونا پڑے گا۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- آل سعود اپنے شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے، یمن…
آل سعود اپنے شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے، یمن میں جارحیت بند کرے: علی الحوثی
-
Ilyas - مئی 14, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 25
- 0 minute read


































