
کابل : طالبان حکومت نے اقوام متحدہ مشن کی خواتین ملازمین کو کام کرنے سے روک دیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق طالبان نے ان کے عملے کی افغان خواتین ملازمین پر پورے افغانستان میں کام کرنے پر پابندی لگادی ہے۔ یہ افغانستان میں امدادی تنظیموں کے کام کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنےکے پریشان کن رجحان کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ جہاں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ افراد کو مدد کی ضرورت ہے۔ مشن کے عہدیدار نے ٹوئٹ کیا کہ ہم ڈی فیکٹو حکام کو یاد دلاتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ادارے اپنی خواتین عملے کے بغیر کام نہیں کر سکتے اور ہم مدد فراہم نہیں کر سکتے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اشارہ دیا کہ وہ اس بارے میں معلومات لے رہے ہیں کہ کیا ہوا؟۔ دسمبر میں پابندی کے بعد جنوری کے وسط میں امدادی تنظیموں نے کچھ علاقوں میں جزوی کام شروع کیا تھا۔


































