
صنعا: انصاراللہ یمن کے سربراہ سید بدرالدین عبدالملک الحوثی نے امریکہ کو رفح پر حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر جارحیت میں امریکہ مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین میں سویلین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے صیہونی حکومت کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رفح پر حملے کی حکمت عملی کو امریکہ نے مرتب کیا ہے۔ صیہونی حکومت اسی حکمت عملی کے تحت غزہ میں امدادی سامان کی رسائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے غزہ میں لاکھوں فلسطینی سخت ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عبدالملک الحوثی نے کہا کہ فلسطین پر قبضہ اور صیہونیوں کی آبادی مسلمان اور عرب ممالک کی سستی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ صیہونیوں کے ساتھ دوستی اور صلح بہت بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا قیام امریکہ اور برطانیہ کے ماتھے پر کلنگ ہے۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں اسرائیل کی رکنیت ادارے کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے حامی فلسطین کو ایرانی مسئلہ قرار دیتے ہیں تاکہ عرب ممالک کو پیچھے رکھا جائے۔ فلسطین ایک عرب ملک ہے اور ایران اس کی حمایت کررہا ہے۔ صیہونی فلسطین اور دیگر عرب ممالک کی زمینوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انصاراللہ کے سربراہ نے کہا کہ دشمن کے خلاف اب تک 40 سے زیادہ کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں 210 میزائل فائر کئے گئے ہیں۔ یمنی فوج اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ بڑھائے گی۔ امید ہے روس اور چین سمیت دیگر ممالک صیہونی بندرگاہوں کی طرف حرکت کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں گے۔


































