
جنیوا : اقوام متحدہ کے ادارے انروا نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں خاموش جنگ جاری ہے جہاں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے تشدد میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے۔ انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے مغربی کنارے کی صورتحال کو 1967 کے بعد بدترین قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اسرائیل کے آپریشن آئرن وال کے بعد ہزاروں فلسطینی اب بھی بے گھر ہیں، جو 1967 کے بعد سب سے بڑی جبری بے دخلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپسی ناممکن بنانے کیلئے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً ایک چوتھائی بچے شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ پر عالمی توجہ کے باعث مغربی کنارے میں انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی کو معمول بنا دیا گیا ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے۔


































