
کل میں اور میرا دس سالہ بیٹا دو گھنٹے تک ڈاکٹر کی ملاقات کا انتظار کرتے رہے۔
پہلے کتاب پڑھ کر ہم نے شروع کیا، لیکن اس نے کتاب میرے تصور سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم کردی۔
میرے پرس میں ڈیلی پلاننگ کی ڈائری اور قلم تھا۔ میرے بیٹے نے اس کے آخری صفحات پر کچھ ڈرائنگ کھینچیں۔ پھر ہم نے ” نام چیز جگہ جانور” کھیلا۔ دو نوجوان جو بیٹے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اس کی مدد کرنے لگے۔
پھر الفاظ بھوجنے کا کھیل کھیلا۔
ایک بٹن جو مجھے اپنے پرس میں ملا، اس سے تھوڑا کھیلا کہ بتائیں کونسے ہاتھ میں ہے؟
لب لباب یہ کہ ایسے کھیل کھیلے جو خاموشی سے کھیلے جاسکتے ہیں۔
دو گھنٹے کا انتظار جو بڑوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، بچے سے کیا توقع؟
ایک بہت دباؤ والا ماحول بہت خوشی سے گزرا اور ایک بچے کے ساتھ ماں کے لیے ایک خاص وقت میں بدل گیا۔
جو چیز میرے لیے دلچسپ تھی وہ مسکراہٹ تھی جو میں نے دوسرے لوگوں کے چہروں پر دیکھی جب انہوں نے ان گیمز کو دیکھا، ایک مسکراہٹ جس نے کم از کم چند لمحوں کے لیے ان سے تناؤ اور تکلیف کو دور کیا، اور وہ لوگ جنہوں نے خود کو ان گیمز سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر بیٹے نے ملک کا نقشہ کھینچا، اس کے پاس بیٹھے آدمی نے ایک کھیل شروع کیا، وہ نقشے کے مختلف حصوں پر انگلی رکھ کر پوچھ رہے تھے کہ یہ کونسا شہر ہوگا، اس طرح وہ چند منٹوں تک مصروف رہے۔
اگر ہم جلدی سے اپنی اور بچوں کی تفریح کے لئے پہلے آپشن پر نہ جائیں جو کہ موبائل فون ہے، تو بہت سے اچھے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ کھیل کے مواقع، مواصلات کے مواقع، ہمدلی اور ہمدردی کے مواقع۔


































