
تہران : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ ایٹمی پروگرام پر امریکا سے منصفانہ معاہدہ ہو سکتا ہے فوجی جارحیت پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا کو تہران کے ساتھ منصفانہ معاہدے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ جوہری پروگرام پر معاہدہ ممکن ہے لیکن امریکا پر اعتماد مجروح ہو چکا ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مفید مذاکرات علاقائی دوست ممالک کی ثالثی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت کا دائرہ صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہنا چاہیے، میزائل پروگرام یا علاقائی اتحادی زیر بحث نہ لائے جائیں۔ عراقچی نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت پورے خطے کے لیے ایک بڑی تباہی ثابت ہوگی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی شکل نہیں بلکہ ان کا مواد زیادہ اہم ہے، اور مختصر وقت میں منصفانہ معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نےکہا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے بارے میں جو کچھ بھی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ محض وہم اور خواب و خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی محض ایک تخیل ہے جس کا کچھ لوگ شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی نظام اتنا مستحکم ہے اور اس کی بنیادیں اتنی مضبوط ہیں کہ افراد کی موجودگی یا غیر موجودگی سے اس نظام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔


































