Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

غزہ میں 4 روزہ جنگ بندی کا اعلان اور قیدیوں کا تبادلہ

تحریر: سید رضا عمادی

صیہونی حکومت اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوگئی ہے۔ یہ جنگ بندی چار روز تک جاری رہے گی۔ اس معاہدے کے مطابق 150 فلسطینی قیدیوں کے مقابلے میں 50 صہیونی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ نیز انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائیگی۔

جنگ بندی کے معاہدے کی وجوہات
جنگ بندی قطر کی ثالثی اور امریکا کے ذریعے سے ہوئی۔ جنگ بندی کے معاہدے کی پہلی وجہ امریکہ تھا، حالانکہ یہی امریکی حکام جنگ بندی کے زیادہ خلاف تھے، کیونکہ وہ جنگ بندی کو حماس کے فائدہ میں سمجھتے تھے۔ ایک اور عنصر جو جنگ بندی کے معاہدے میں موثر تھا، وہ صیہونی حکومت کی غزہ اور حماس کے خلاف فوجی اہداف کے حصول میں ناکامی تھی۔ صیہونی فوج کا سب سے بڑا مقصد اپنے قیدیوں کو چھڑانا تھا۔ اس حوالے سے "بنیامین نیتن یاہو” کی کابینہ خاص طور پر حماس کے زیر حراست اپنے قیدیوں کو تلاش کرنے اور رہا کرنے میں ناکام رہی۔

صیہونی حکومت نے غزہ کے اسپتالوں اور اسکولوں پر بھی بمباری کی، جن میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی اسکول بھی شامل ہیں، کیونکہ اس کا دعویٰ تھا کہ قیدی ان اسکولوں اور اسپتالوں کے نیچے موجود ہیں۔ صیہونی حکومت کی طرف سے قیدیوں کی رہائی میں ناکامی کے بعد گذشتہ ہفتے مقبوضہ علاقوں میں عوام کے مظاہرے ہوئے اور لوگوں نے جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی عوام کے مظاہرے بھی صیہونی حکومت پر ایک بڑا دباؤ تھے۔ ایک اور اہم عنصر دنیا بھر میں رائے عامہ کا دباؤ تھا۔ صیہونی حکومت کے ہاتھوں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی مذمت میں دنیا بھر میں لوگوں کے مظاہروں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ مظاہرین نے صیہونی حکومت کے جرائم کے لیے امریکہ کی حمایت کی بھی مذمت کی۔ ایسے میں امریکی حکومت جو کہ اس ملک کے اندر رائے عامہ سے شدید دباؤ کا شکار تھی، اس نے نیتن یاہو کی کابینہ پر جنگ بندی کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ غزہ میں اعلان کردہ جنگ بندی کا مطلب غزہ میں اپنے اعلان کردہ اہداف کے حصول میں صیہونی حکومت کی ناکامی ہے۔ غزہ کے عوام کے خلاف 47 دن کی ہمہ گیر بمباری کے بعد بھی صیہونی حکومت مزاحمت کو تباہ کرنے میں ناکام رہی اور ایک بھی صہیونی قیدی حاصل کیے بغیر حماس کی شرائط پر سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئی۔

غزہ پر حملے بند کرنے اور اس مرحلے پر 150 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کا مطلب حماس کی شرائط کو قبول کرنا ہے۔ صیہونی حکومت جو کہ گذشتہ 47 دنوں میں اپنے قیدیوں کو رہا کروانے میں ناکام رہی، صرف 50 قیدیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی پر آمادہ ہوئی، تاکہ کم از کم مقبوضہ علاقوں کے اندر رائے عامہ کے دباؤ کو کم کرسکے۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ 200 صہیونی قیدی ابھی تک حماس کے قبضے میں ہیں اور مستقبل میں وہ صہیونی قیدیوں کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ مقررہ فوجی اہداف کے حصول کے بغیر جنگ بندی کو قبول کرنا صیہونی حکومت کی ایک اور ناکامی ہے، حتیٰ کہ نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک وزیر نے بھی اس ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر "اتمر بن گویر” نے جنگ بندی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "ہم ایک بار پھر تقسیم و تفرقہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت ایک بار پھر بہت بڑی غلطی کر رہی ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کا کوئی بھی معاہدہ کابینہ کی حماقت اور تباہی کی علامت ہے۔”

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular