Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

19 ممالک کی مغربی کنارے میں الحاق کی اسرائیلی مہم کی مذمت

انقرہ: انیس ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر غیرقانونی کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ اور اسے عملی الحاق قرار دیا ہے۔
ترکیہ، قطر، فرانس اور برازیل سمیت انیس ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اراضی کی رجسٹریشن شروع کرنے کا منصوبہ ان فلسطینیوں کی زمین ضبط کرنے کا ذریعہ بنے گا جو ملکیت ثابت نہیں کر پائیں گے۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری مشترکہ بیان میں اسرائیلی اقدامات کو الحاق قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات پر کاری ضرب ہیں۔ مشترکہ اعلامیے پر سعودی عرب اور مصر کے علاوہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہان نے بھی دستخط کیے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان تبدیلیوں کے تحت فلسطینی اراضی کو نام نہاد اسرائیلی ریاستی زمین قرار دیا جا رہا ہے اور غیرقانونی صیہونی آبادکاروں کی سرگرمیوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں متنبہ کیا گیا کہ یہ اقدامات 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی قانونی و انتظامی حیثیت اور آبادی کے تناسب کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular