| حجہ الاسلام آقائےقرائتی نقل فرماتے ہیں: ایک روز ہم ایک مسجد میں گئے اس مسجد کے امام جماعت، میرے والد محترم کے دوست تهے- وہ مجھ سے کہنے لگے اس مسجد کی تعمیر کا عجیب قصہ اس شہر میں مشہور ہے وہ یہ ہے کہ: ایک دن ایک امیر شخص نے تین کلو انگور خرید کر اپنے نوکر کو دئیے اور کہا یہ انگور گھر لے جاو اور میری بیوی کو دیدینا اور خود کسیکام سے چلاگیا-عصر کے وقت وہ شخص اپنے گهر واپس لوٹا اور اپنی اہلیہ سے کہا: انگور لے آو بچوں کے ساتھ مل کر کھائیں گے،اس کی بیوی نے ہنستے ہوئے جواب دیا:میں نے اور بچوں نے سارے انگور کهالئے، بہت اچھے اوربہت میٹھے انگور تهے…!مرد، حیرت سے کہنے لگا تم نے سارے کهالئے!؟عورت نے پھر مسکراتے ہوئے کہا ہاں, واقعا سارے کهالئےا!وہ شخص، رنجیدہ ہوا اور کہا: میں نے تین کلو انگور خریدے تم نے ایک دانہ بھی میرے لئے نہیں رکها!!!اور اب ہنس بهی رہی ہو، دلچسپ ہے …! وہ شخص بہت رنجیدہ ہوا اور کچھ سوچنے کے بعد…اچانک اٹھا اور گھر سے باہر چلاگیا-اس کی بیوی اپنے اس رویہ پر شرمنده ہوگئی تھی اور شوہر کو آواز دی لیکن کوئی جواب نہیں آیا- وہ شخص، رنجیدہ لیکن سوچوں میں ڈوبا گهر سے چلاگیا تها- اور کسی ایسے آدمی کی تلاش میں تھا جس کے پاس اس شہر میں اچهی زمین ہو- اور پهر اس شخص کو ایسا آدمی مل گیا اور مالدار آدمی نے اس سے کہا: مجھے اس شہر میں ایسی جگہ زمین کا ایک ٹکڑا چاہیئے جہاں کے لوگوں کو مسجد کی ضرورت ہو اور پهر زمین کو نقد خریدلیا-اس کے بعد شہر کے معمار کے پاس گیا اور مسجد کی تعمیر کے لئے اسے زمین دکھانے کے لئے لےگیا اور کہا:میں چاہتا ہوں تم اس جگہ پر یہاں کے لوگوں کے لئے ایک مسجد تعمیر کرو اور ابھی اسی وقت میرے سامنے مسجد کا کام شروع کیاجائے-معمار نے بھی جب دیکھا کہ اس شخص کو بہت جلدی ہے تو اپنے تمام وسائل اور تمام کاریگر لے آیا اور مسجد کا کام شروع کردیا-وہ آدمی جب مسجد کے کام سے مطمئن ہوگیا تو اپنے گھر واپس لوٹ آیا-اس کی بیوی نے کہا: کہاں چلے گئے تھے تم!؟میری بات کا جواب کیوں نہیں دیا نہ کچھ اتہ پتہ تها تمہارا!؟ مرد نے جواب دیا:کچھ نہیں …بس گیا تھا کہیں, جو مال دنیا تین کلو انگور میرے پاس ہے اس سے ایک دانہ اپنی دوسری دنیا کے لئے الگ کرنے کے لئے…. اور اب اگر ابھی ابهی مجھے موت بھی آجائے تو میں بے فکر ہوں کہ میں نے کم از کم ایک انگور کا دانہ اپنے لئے ذخیره کردیا ہے-بیوی نے کہا کیسے؟ مگر کیا ہوا!؟اگر تم انگوروں کی وجہ سے رنجیدہ ہوگئے ہو تو ہماری غلطی ہے ہم نے زیادتی کی معاف کردو! بیوی کے جواب میں، شوہر نے رنجیدگی سے کہا:تمہیں اتنے انگوروں میں سے ایک دانے کے لیے بھی میرا خیال نہیں آیا اور مجھے بهلادیا,البته یہ اس دنیا کی خاصیت ہے اور تمہاری غلطی نہیں ہے!دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اتفاق ایسے وقت میں پیش آیا کہ میں ابهی تم لوگوں کے درمیان زنده ہوںپهر تم سے کیسے یہ توقع رکھوں کہ میری موت کے بعد مجھے یاد رکھوگی اور میرے لئے صدقہ و خیرات کروگی!؟اور پهر زمین کی خریداری اور مسجد کی تعمیر کا قصہ اپنی بیوی کو سنایا-امام جماعت نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر میں لوگوں کے درمیان مشہور قول کے مطابق، اس مسجد کی تعمیر کو چار سو سال ہوگئے ہیں …400 سال سے یہ مسجد اس شخص کے لئے صدقہ جاریہ ہے، چنانچہ اس نے انگور کے ایک دانہ سے درس عبرت لیا-پیارے بچو! ہمیں بھی ایسے واقعات سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے اور اپنی زندگی میں ہی جتنا ہو سکے اچھے کام اور اعمال انجام دینے چاہیے اور کسی کے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ |
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- یک انگور بھی مجهے نہیں ملا…!
یک انگور بھی مجهے نہیں ملا…!
-
Ilyas - اکتوبر 16, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 14
- 1 minute read


































