میرا نام محمود ہے۔ میری دو بہنیں فرحت اور زیبا ہیں۔ فرحت زیبا سے چھوٹی ہے دونوں اسکول میں پڑھتی ہیں۔ہمارے گھر کے کل چھ افراد ہیں۔ ہم نے گھر کے کاموں کو آپس میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ خرید و فروخت اور گھر سے باہر کے کام میرے والد کرتے ہیں اور میں بھی ان کی ان کاموں میں مدد کرتا ہوں روٹی خرید لاتا ہوں دودھ خرید لاتا ہوں سبزی او رپھل خرید لاتا ہوں۔ فرحت اور زیبا گھر کے اندرونی کاموں میں میری والدہ کی مدد کرتی ہیں اور گھر کو صاف و ستھرا اور منظم رکھنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض کام فرحت نے اور بعض دوسرے کام زیبا نے اپنے ذمے رکھے ہیں۔ ہمارے گھر میں ہر ایک کے ذمے ایک کام ہے کہ جسے وہ اپنا فریضہ جانتا ہے او راسے انجام دیتا ہے اور اسے کبھی یاد دلانا بھی نہیں پڑتا۔ ہم تمام گھر کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں صرف ہمارا چھوٹا بھائی کہ جو دس مہینے کا ہے کوئی کام انجام نہیں دیتا۔ میری امی کہتی ہیں کہ رضا سوائے رونے اور دودھ پینے اور سونے اور ہنسنے کے اور کوئی کام نہیں کرتا۔ جب بڑا ہوگا تو اس کے لئے بھی کوئی کام معین کردیا جائے گا! میرے والد کا یہ عقیدہ ہے کہ گھر کے تمام افراد کو کوئی نہ کوئی کام قبول کرنا چاہیے اور ہمیشہ اسے انجام دیناچاہیئے کیوں کہ گھر میں کام کرنا زندگی گزارنے کا درس لینا اور تجربہ کار ہونا ہے جو کام نہیں کرتا کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ پیغمبر کرامی نے فرمایا ہے! کہ خدا اس آدمی کو جو اپنے بوجھ کو کسی دوسرے پر ڈالتا ہے پسند نہیں کرتا۔ اسے اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے۔ اچھا انسان وہ ہے جو گھر کے کاموں میں مدد کرے اور مہربان ہو۔ ہمارے گھر کے افراد اپنے کاموں کے انجام دینے کے علاوہ دوسرے افراد کی بھی مدد کرتے ہیں۔ مثلاً میں ایک دن عصر کے وقت گھر میں آیا تو دیکھا کہ میرے ابا گھر کے صحن میں جھاڑو دے رہے ہیں میں نے کہا۔ ابا جان آپ کیوں جھاڑو دے رہے ہیں ابا نے کہا کہ تم نہیں دیکھ رہے کہ تمہاری ماں کے پاس بہت کام ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی مدد کریں۔ ہم حضرت علی ؑ کے شیعہ ہیں ہم دینداری میں آپؑ کی پیروی کرتے ہیں۔ ہمارے امام پیشوا حضرت علی ؑ اپنے گھر کے کاموں میں حضرت زہرا (س) کی مدد کرتے تھے یہاں تک کہ گھر میں جھاڑو دیتے تھے۔ ہاں یہ بھی بتلا دوں کہ ہمارے گھر کبھی بھی کوئی جھگڑا اور شور و غل نہیں ہوتا۔ اگر میرے اور میری بہن کے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے تو ہم اسے ہنسی خوشی اور مہربانی سے حل کرلیتے ہیں اور اگر ہم اسے حل نہ کر سکیں تو ماں کے سامنے جاتے ہیں یا صبر کرتے ہیں تاکہ اباآجائے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔ میرے ابا رات کو جلدی گھر آجاتے ہیں۔ ہمارے درس کے متعلق بات چیت کرتے اور ہماری کاپیوں کو دیکھتے ہیں اور ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ جب ہمارے اور امی کے کام ختم ہوجاتے ہیں تو ہم سب چھوٹی سی لائبریری میں جو گھر میں بنا رکھی ہے چلے جاتے ہیں اور اچھی کتابوں کا جو ہمارے ابو نے ہمارے لئے خرید رکھی ہیں مطالعہ کرتے ہیں میرا چھوٹا بھائی رضا بھی امی کے ساتھ لائبریری میں آتا ہے اور امی کے دامن میں بیٹھا رہتا ہے بجائے اس کے کہ مطالعہ کرے کبھی امی کی کتاب کو پھاڑ ڈالتا ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے ماں باپ، بھائی بہن ایسے اچھے ہیں اور میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے فرائض کو اچھی طرح بجالاو ¿ں اور گھر کے کاموں میں زیادہ مدد کروں۔ میرے استاد نے میرے اس مضمون کی کاپی پر یہ نوٹ لکھا: محمود بیٹا تم نے بہت اچھا اور سادہ لکھا ہے۔ تمہارا مضمون سب سے اچھا ہے تم مقابلے میں پہلے نمبر پر ہو۔ جب میں نے تمہارا مضمون پڑھا تو بہت خوش ہوا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس طرح کا اچھا طالب علم بھی ہمارے اسکول میں موجود ہے۔ تمہیں خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اس طرح کے سمجھدار ماں باپ رکھتے ہو۔ کتنا اچھا ہے کہ تمام لوگ اور گھر کے افراد تمہاری طرح کے ہوں ایک دوسرے کے یارو مددگار ہوں اور تمام لڑکے کے تمہاری طرح مہربان اور فداکار اور کارکن ہوں۔