
سپریم اپیلٹ کورٹ نے گلگت بلتستان میں انتخابات کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے محکمہ صحت میں بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کرنے اور 400 نئی آسامیوں پر تقرریوں کا حکم دیدیا۔ عدالت نے سیکریٹری صحت اور سیکریٹری سروسز کو ہدایت کی کہ رواں ہفتے آسامیاں مشتہر کی جائیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ محکمہ صحت میں میرٹ پر قابل لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ عدالت نے اسکردو شہر میں کم ازکم 20 دن کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئل ڈپو بنانے اور کورونا وبا کے دوران ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے اسکردو شہر، غذر اور استور میں آکسیجن پلانٹ لگانے کے بھی احکامات جاری کیے۔
چیف جج سید ارشد حسین شاہ اور سینئر جج وزیر شکیل احمد پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے 37 مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے متعدد پر فیصلہ دیا اور کئی مقدمات میں فریقین کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیدیا۔ اسکردو شہر کے مختلف منصوبوں پر از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سیکریٹری صحت کو حکم دیا کہ فوری طور پر اسکردو شہر، غذر اور استور میں آکسیجن پلانٹ لگایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ کورونا وباء میں اس کی اشد ضرورت ہے۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان محمد اقبال نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت کو 400 آسامیوں کی منظوری مل چکی ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہم یہ تقریاں نہیں کرسکتے۔ انتخابات کے بعد یہ تقریاں ہونگی۔
عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں تقریوں پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کریں۔ یہ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ عدالت نے سیکریٹری ہیلتھ اور سیکریٹری سروسز کو حکم دیا کہ وہ اسی ہفتے بذریعہ اشتہار ان آسامیوں کو مشتہر کریں اور میرٹ پر قابل لوگوں کو بھرتی کریں۔ عدالت نے اسکردو شہر میں پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بڑھانے کے لیے ڈائریکٹر پی ایس او اور سیکریٹری پیڑولیم کو حکم دیا کہ اسکردو شہر میں کم ازکم بیس دن کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئل ڈپو بنایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ اسکردو شہر گلگت بلتستان میں سیاحت اور دفاعی لحاظ سے اہم شہر ہے۔


































