
کابل کے سیدالشہدا اسکول پر کار حملے میں شہید ہونے والے طلبہ و طالبات کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ طلبہ و طالبات کی تدفین میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لواحقین غم سے نڈھال ہیں۔
دھماکے میں جاں بحق آٹھویں جماعت کی طالبہ کے والد نے کہا کہ ماں بیٹی کو اسکول جانے سے روک رہی تھی، بیٹی نے کہا تھا کہ ایک روز اور اسکول جانے دو، اگلے روز اسکول نہیں جاوں گی، بیٹی نے سچ کہا تھا، وہ اسکول نہ جا سکی، اس کی آج تدفین ہو گئی۔
افغان دارالحکومت کابل میں اسکول کے باہر ہونے والے دھماکے میں شہید افراد کی تعداد 68 ہو گئی جن میں اکثر طلاب ہیں جبکہ 165 زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔


































