
امریکا پر لازم ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر ایٹمی سمجھوتے کے مشترکہ کمیشن کے دائرے میں گفتگو کا امکان پایا جاتا ہے، وزارت خارجہ
جوبائیڈن حکومت پہلے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ترک کرکے عمل کرنا شروع کرے پھر امریکا کی نئی حکومت سے کوئی بات ہو سکتی ہے،ایرانی وزیر خارجہ
تہران (نیوزڈیسک) ایران نے اپنے ایٹمی معاملات پر دوبارہ مذاکرات اور معاہدے میں سعودی شمولیت کے تمام مطالبات مسترد کردئے او ر صاف صاف کہہ دیا ہے کہ امریکا پہلے ایٹمی معاہدے میں شمولیت اور پابندیاں ختم کرے ،امریکا پر لازم ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر ایٹمی سمجھوتے کے مشترکہ کمیشن کے دائرے میں گفتگو کا امکان پایا جاتا ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے معاہدے میں سعودی عرب کو شامل کرنیکی فرانسیسی صدر میکرون کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیل کے مندرجات اور فریقین ناقابل تبدیل ہیں ، جوہری معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 سے توثیق شدہ ایک کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کے فریق واضح ہیں اور انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران کے اقدامات کو جوہری معاہدے کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے امریکا سے کہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے جوہری معاہدے میں واپس آ جائے ، سوال یہ ہے کہ خود امریکا اور اس ملک کی نئی حکومت، ٹرمپ کی شکست خوردہ پالیسیوں کو ترک کرنا چاہتی ہے یا پھر ان پالیسیوں کو جاری رکھے جانے کی خواہاں ہے؟ اگر جوبائیڈن حکومت، ٹرمپ پالیسیوں سے ہٹ کر عمل کرنا چاہتی ہے تو پہلے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ترک کرکے عمل کرنا شروع کرے پھر امریکا کی نئی حکومت کے دیگر مسئلے پر کوئی بات ہو سکتی ہے


































