
اسلام آباد : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیراعظم عمران خان کے امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکا کو اڈوں کی فراہمی، مسئلہ کشمیر اور افغانستان پر وزیر اعظم نے جرات مندانہ اور ٹھوس موقف اختیار کر کے عوام کے جذبات کی عمدہ ترجمانی کی ہے، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر مغرب کا منافقانہ رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایک طرف مغربی ممالک جانوروں کے ساتھ کسی ظالمانہ سلوک پر زمین و آسمان کو سر پر اٹھا لیتے ہیں جبکہ دوسری طرف نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کو ان کا ذاتی معاملہ قرار دے کر بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں، علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ عالم اسلام سے مغرب کا یہ متعصبانہ طرز عمل نہ صرف مسلمانوں کے لیے اضطراب کا باعث ہے بلکہ تہذیبی تصادم کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے، وزیر اعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے تو پاکستان اور بھارت مہذب ہمسایوں کی طرح رہ سکتے ہیں اور پھر مہلک ترین ہتھیاروں کی ضرورت باقی نہیں رہتی، انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود ایک ارب سے زائد انسانی جانوں کے محفوظ مستقبل کے لیے دونوں ممالک کو وزیر عمران خان کے اس وژن کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا واضح بیان کہ فوجی انخلا کے بعد امریکا کو سرحد پار انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، ارض پاک کی داخلی خودمختاری پر اہم پیش رفت ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔وزیر اعظم کے اس اعلان پر مخالفین بھی تحسین کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حکومت کے قیام کے حوالے سے وزیراعظم نے جس لائحہ عمل کا اظہار کیا وہ انتہائی دانشمندانہ ہے، ان کا موقف مجموعی طور پر مدلل،جامع اور قائدانہ صلاحیتوں کا بہترین عکاس ہے۔


































