
شیعہ علما کونسل کے رہنما علامہ عارف حسین واحدی، امت واحدہ کے سربراہ علامہ امین شہیدی، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی و دیگر علماء نے مولانا عادل خان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں فرقہ واریت اور انتشار پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معروف عالم دین مولانا عادل خان کے قتل کو پاکستان دشمنوں کی جانب سے امن خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔ آرمی چیف نے مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے بھی مولانا عادل کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں علما کو قتل کرا کے شیعہ سنی فرقہ وارانہ تنازع پیدا کرنا چاہتا ہے۔علاوہ ازیں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے بھی مولانا عادل کے قتل کی مذمت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم ﷲ خان کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر عادل خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی و رکن مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور ان کے ساتھی گزشتہ روز شاہ فیصل کالونی، کراچی میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔


































