
غاصب صہیونی فوج نے مسجد الاقصی کے صحنوں کو جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے فلسطینی نمازیوں اور دھرنے پر بیٹھے فلسطینیوں پر حملہ کرکے سینکڑوں فلسطینیوں کو زخمی کر دیا۔ مسلمانون کے قبلہ اول مسجد الاقصی کے مختلف صحن پیر کی صبح سے ایک بار پھر صہیونی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور صہیونی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپین جاری ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کی بے حرمتی اور اس مقدس مقام میں ان کا غیر قانونی داخلہ روکنے کے لئے فلسطینی نمازی، مسجد الاقصی کے صحنوں میں جمع ہو گئے ہیں۔ فلسطینیوں نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صہیونی انھیں ربڑ کی گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے اور صوتی دھماکے کئے جا رہے ہیں اور صہیونی فوجیوں نے مسجد کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔
اتوار کی رات بھی غاصب صہیونی حکومت کے فوجیوں نے مشرقی بیت المقدس میں واقع علاقے شیخ جراح میں فلسطینیوں کو جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے چودہ فلسطینیوں کو زخمی کر دیا تھا۔ مقبوضہ بیت المقدس کے باب السہرہ اور العیسویہ اور الطور نامی علاقوں میں غاصب صہیونی حکومت کے فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہونے کی رپورٹ ملی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں غاصب صہیونی حکومت کے فوجیوں کے ہفتے کی رات کے حملوں میں نوے فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
مسجد الاقصی کے صحن اور ان کے آس پاس کے علاقے خاص طور سے باب العامود، حالیہ دنوں کے دوران صہیونی فوجیوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں اور ان حملوں اور جارحیت میں دسیوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ کے اطراف میں واقع صہیونی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے ہیں۔ فلسطینی ذرائع نے غزہ کے اطراف میں واقع صہیونی تارکین وطن کی کالونیوں میں راکٹ حملوں کے خطرے کے پیش نظر سائرن کی آوازیں سنائی دیئے جانے کی خبر دی ہے۔ شہاب نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عسقلان اور غزہ کے اطراف میں واقع سبھی آبادیوں سے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
دریں اثنا صہیونیوں نے غزہ کے علاقے سے صہیونی بستیوں پر کئی راکٹ داغے جانے کی خبر دی ہے تاہم صہیونی فوجیوں نے دعوی کیا ہے کہ غزہ سے فائر کئے جانے والے کم ازکم چار راکٹوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ شدید فوجی سنسر کے باعث ان راکٹ حملوں سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
دریں اثںا فلسطین میں جاری صہیونی بربریت روکنے کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے پر تاکید کی گئی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے باہر فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور تشدد آمیز واقعات کو لے کر مسلمان ملکوں کی جانب سے صہیونیوں کے اقدامات کا نوٹس لئے جانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔
ادھر یورپی یونین نے بھی اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یروشلم میں موجود کشیدگی کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے۔ علاوہ ازیں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد روکنے پر زور دیا ہے۔
ماہ رمضان کی ستائیس ویں شب مقبوضہ بیت المقدس میں عبادت کرنے والے نمازیوں پر غاصب اسرائیلی فوج کی طرف سے اسٹن گرینیڈ اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال کے بعد سے حالات مسلسل بحرانی بنے ہوئے ہیں اور فلسطینیوں اور غاصب صہیونی فوجیوں کے درمیان مسلسل شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔


































