Sat Oct 10, 2026

گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

روزانہ کی خبریں

مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی، نتیجہ خطرناک ہوگا

تحریر: تصور حسین شہزاد
مسئلہ کشمیر 5 اگست سے زیادہ فلیش ہوا، جب انڈیا نے کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرکے اِسے انڈیا میں ضم کر لیا۔ اس اقدام کے بعد مودی سرکار کو کشمیریوں کے سخت ردعمل کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اور پوری وادی کا دنیا بھر سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اسکول، ہسپتال، دکانیں، سرکاری ادارے سب بند ہیں، جزوی طور پر ہفتے میں ایک دو دن کیلئے کرفیو میں نرمی لائی جاتی ہے، مگر کشمیری مکمل طور پر محصور ہیں۔ کوئی نوجوان بھارتی فورسز کی طرف دیکھ بھی لے تو اْسے ”مجاہد“ سمجھ کر دھر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح خواتین کی عصمت دری کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ عالمی برادری اپنے معاشی مفادات کیلئے آنکھیں موندے ہوئے ہے۔
5 اگست کے بعد سے اب تک عالمی سطح پر بھی پاکستان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر کچھ زیادہ اْجاگر ہوا ہے۔ اس میں وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، مگر افسوس کہ حکمرانوں نے اس مسئلہ کو اْس انداز میں فلیش نہیں کیا، جس کی ضرورت تھی۔ بہرحال یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ایک ناکامی ہے، جسے تسلیم کرنا ہوگا۔ اب انڈیا کی نظر مقبوضہ کشمیر کے بعد ہمارے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر ہے۔ بھارتی سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ وہ اب آزاد کشمیر کو حاصل کرنے کیلے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ بھارتی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر جو پہلے ہی ان کے اختیار میں تھا، اس کا مسئلہ حل کر لیا ہے۔ جو کشمیر پاکستان کے زیرکنٹرول ہے، اس کا مسئلہ اب حل کرنا ہے۔ بھارت کی جانب سے ”گھس کر مارنے“ کی دھمکیاں اور جنگ کے دعوے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
ہمارے حکمرانوں کی حالیہ پالیسیاں، طریقہ کار اور ہمارے عرب ”دوستوں“ کی جانب سے اشارے بہت ہی خطرناک ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اتنے مجبور ہو جائیں کہ خود اپنے ہاتھ سے کشمیر انڈیا کے حوالے کر دیں۔ اس وقت انڈیا کی نگاہیں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر لگی ہیں۔ انڈیا نے عالمی اداروں میں باقاعدہ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان انڈیا کے علاقے ہیں اور ان علاقوں پر پاکستان کا قبضہ ناجائز ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کی ساری قراردادیں پاکستان کے حق اور انڈیا کی مخالفت میں ہیں، لیکن عالمی سطح پر انڈیا نے اپنا سفارتی اثر و رسوخ اتنا بڑھا لیا ہے کہ اس نے سفارتی محاذ پر پاکستان کو کمزور کر دیا ہے۔ حکمرانوں کو یہ احتساب کا ڈرامہ فی الحال بند کرکے کشمیر کے ایشو پر توجہ دینی چاہیئے، کیونکہ مودی کے بیان کے بعد صورتحال انتہائی گھمبیر دکھائی دے رہی ہے۔
مودی نے بیان دیا ہے کہ پاکستان کو 7 سے 10 دن کے اندر اندر ختم کرسکتا ہوں۔ اس نے ٹائم فریم دیدیا ہے کہ کم سے کم 7 دن اور زیادہ سے زیادہ 10 دن لگیں گے اور پاکستان ختم ہو جائے گا۔ یہ بیان کسی منہ پھٹ سیاستدان یا کسی میڈیا میں شہ سرخیاں بنوانے کے شوقین فوجی افسر کا نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار وزیراعظم کا بیان ہے۔ اس وزیراعظم کا بیان ہے، جس کے دل میں مسلمانون کیلئے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور اس نے ماضی میں مسلمانوں کیخلاف جو کہا وہ کرکے بھی دکھایا۔ اس نے ریاست کے اندر مسلمانوں کیخلاف جو قوانین بنائے ہیں، ان سے اس کے اندر کا کینہ اور اسلام دشمنی واضح ہو کر سامنے آچکی ہے۔ انڈیا کی پاکستان اور مسلمانوں کے حوالے سے پالیسیوں کا جائزہ لینے کیلئے الگ سے سیمینار یا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی ضرورت ہے، تاکہ واضح ہو کہ انڈیا پاکستان اور مسلمانوں کے حوالے سے کیا سوچ اور کیا کر رہا ہے۔
ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی یہ اقرار کرچکے ہیں کہ مسلم ممالک کے مفادات پاکستان کی نسب انڈیا سے زیادہ وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے عرب دوست ممالک بھی اربوں ڈالر انڈیا میں انویسٹ کرچکے ہیں اور کر بھی رہے ہیں اور یہی مسلم ممالک انڈین وزیراعظم مودی کو اپنے اعلیٰ اعزازت اور تمغوں سے بھی نواز چکے ہیں۔ صرف ایران، ترکی اور ملائیشیا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ہم آواز ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر عرب ممالک انڈیا سے قربت رکھتے ہیں۔ ان کی یہ قربت واضح اور عیاں ہے۔ انڈیا پہلے پاکستان کو دھمکی دیتا تھا کہ باز آجائیں ہم اسٹرائیک کریں گے، پاکستان پر حملہ کر دیں گے، کیمپ تباہ کر دیں گے، پاکستان کو عالمی اداروں میں لے جائیں گے۔ یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے۔ اب مودی نے واضح کہہ دیا ہے کہ ہم جنگ کریں گے اور جنگ بھی طولانی نہیں ہوگی بلکہ 7 سے 10 دن میں پاکستان کا خاتمہ کر دیں گے۔ مودی کے اس بیان کے جواب میں پاک فوج نے بیانئے کی حد تک جواب دیا ہے کہ ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جارحانہ بیان ایک سیاستدان کی زبان سے جاری ہوا ہے اور وہ بھی انڈیا کے وزیراعظم کی زبان سے اور وہ وقت کا بھی تعین کر رہا ہے تو اس بیان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ جس کو انڈیا نے ابھی تک قبول نہیں کیا جبکہ ہمارے وزیراعظم عمران خان اس پیشکش پر پْھولے نہیں سما رہے، مگر ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسی ٹرمپ نے فلسطین کے معاملے میں بھی ثالثی کی ہے۔ اس ثالثی کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ ٹرمپ نے فلسطین پر یہ ثالثی کی ہے کہ فلسطین اسرائیل کو دیدو اور فلسطینی فلسطین سے نکل جائیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصر سے کچھ علاقہ لیکر فلسطینیوں کو وہاں آباد کر دیتے ہیں۔ یہ ہے ٹرمپ کی ثالثی۔ ہمارے حکمران روز جا کر ٹرمپ کے پاوں پڑتے ہیں کہ آپ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کریں۔ لگتا ہے ہمارے حکمران عقل سے عاری ہیں یا انہیں دکھائی ہی کچھ نہیں دیتا۔ انہوں نے فلسطین کی ثالثی سے بھی کوئی عبرت نہیں لی۔ یہ یقین مان لیں کہ انڈیا ابھی ٹرمپ کی ثالثی سے انکار کر رہا ہے، لیکن ایک دن انڈیا ٹرمپ کی ثالثی مان لے گا۔
کشمیر کے مسئلہ کا امریکی حل یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر انڈیا کے حوالے کر دو اور اس کے بدلے میں وہ سعودی عرب سے پیسے دلوا دے گا۔ ویسے بھی سعودی عرب گلگت بلتستان میں مختلف ناموں سے پہلے ہی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ حکمران یہ کیوں نہیں دیکھ رہے کہ ٹرمپ نے فلسطین کیساتھ کیا کیا ہے جو تم مسئلہ کشمیر ان کی جھولی میں ڈال رہے ہو؟ میرے خیال میں اس سے بڑی ذلت اور بے شرمی اور کیا ہوگی کہ ہم ٹرمپ سے کہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کروائے۔ یہ اقدام کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کی توہین ہے، یہ شہدائے کشمیر کے خون سے غداری ہے۔ یہ پاکستان اور اسلام کی توہین ہے۔ یہ اس ڈونلڈ ٹرمپ سے خیر کی توقع کر رہے ہیں، جس نے فلسطین کے معاملے میں کھل کر خیانت کی ہے، لیکن ٹرمپ یاد رکھے کہ فلسطین کے غیور عوام اس کی یہ ”سنچری ڈیل“ کسی طور قبول نہیں کریں گے اور وہ وقت قریب ہے، جب اسرائیل صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا اور فلسطین کی آزادی کے بعد کشمیر کا مسئلہ بھی فوری حل ہوگا۔ یہ دونوں مسئلے حل بھی عوام کے ہاتھوں ہوں گے، خیانت کار حاکم اس اہل نہیں کہ وہ یہ مسئلے حل کروا سکیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular