
نامِ حسین (ع) لیکر پیدل چلنا بھی جرم قرار، ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں، جس میں متعدد اہل تشیع گرفتار کر لیے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں چہلم سید الشہداء کے موقع پہ چاہ سید منور سے کوٹلی امام حسین (ع) آنے کے جرم میں پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملک بھر کے دیگر شہروں کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں اربعین واک کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں اہل تشیع کی بڑی تعداد چاہ سید منور سے کوٹلی امام حسین (ع) آئی تھی۔ اس اربعین واک کے جرم میں پولیس نے شہر بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ رات گئے انجمن متولیان کے ایک گروپ کی سربراہی کرنے والے سید تنویر عباس شاہ (تھلہ روشن چراغ) کو پولیس نے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اسی طرح علی الصبح چاہ سید منور میں متعدد اہل تشیع گھرانوں پر چھاپہ مارا گیا۔
یاد رہے کہ رواں برس پاکستان کے مختلف شہروں میں اربعین واک کا وسیع پیمانے پہ اہتمام کیا گیا تھا۔ نہایت پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ یہ سلسلہ انجام پانے کے باوجود اربعین واک کا اہتمام کرنے والے افراد کے خلاف مختلف شہروں میں ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ اب تک ڈیرہ اسماعیل خان، بہاول نگر، ملتان، جامشورو، حیدرآباد، جیکب آباد، سرگودھا، خوشاب، لیہ، اسلام آباد، ڈی جی خان، کوٹ ڈی جی اور خیرپور میں عزاداروں کے خلاف درجنوں ایف آئی آرز کاٹی جا چکی ہیں۔
ملتان میں کاٹی گئی ایف آئی آر میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنمائوں، آئی ایس او کے رہنماء، علمائے کرام، مختلف انجمنوں کے سربراہ، ماتمی سالار، بانیان مجالس اور لائسنسدار سمیت ایک سو کے قریب افراد کے نام شامل ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے اندراج پر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکریٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا کہ عزاداری سید الشہداء ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، انتظامیہ حالات کو خراب نہ کرے، روز اربعین لوگوں کا گھروں سے نکل کر مرکزی جلوس میں شامل ہونا کوئی جرم نہیں، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، صرف ملتان نہیں پورے ملک میں اربعین واک کی گئی ہے، جو کسی کے خلاف نہیں تھی، ہماری واک پرامن تھی، کسی کے خلاف نعرے بازی نہیں کی، کسی کی تکفیر نہیں کی گئی، انتظامیہ فی الفور اس حوالے سے اپنی رپورٹ واپس لے۔


































