
تحفظ بنیاد اسلام بل کی منظوری کیلئے سازشی عناصر سرگرم،پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تقاریر،مختلف جماعتیں ایک ہوگئیں
علمائے کرام کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے انہیں بل پر اعتماد میں لیاجائے،آل پارٹیزکانفرنس میں مطالبہ، زوار بہادر کی محرم میں جلوس روکنے کی دھمکی
لاہور (نیوز ڈیسک) محرم سے قبل ایک سازش کے تحت فرقہ واریت کے عفریت کو پھرزندہ کیاجارہاہے ،تحفظ بنیاد اسلام بل کے نام پرمختلف جماعتیں ایک ہوگئیں ،جبکہ جے یوآئی کے ایک دھڑے کے رہنما زوار بہادر نے اشرف جلالی کو رہا نہ کرنے پر محرم کے جلوس روکنے کی دھمکی دی ہے،تفصیلات کے مطابق محرم الحرام سے پہلے متنازعہ بل کی پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد شیعہ اور بعض اہلسنت جماعتوں کی مخالفت کے بعد حامی گروہ نے اپنی مہم تیز کردی ہے اور بل کو دوبارہ اسمبلی سے منظور کرانے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں،منصوبہ بندی کے تحت پنجاب اسمبلی میں بعض حکومتی اور اپوزیشن ارکان مولانا محمد الیاس چنیوٹی، میاں جمیل احمد شرقپوری، بسمہ چودھری اور خدیجہ عمر فاروقی نے "تحفظ بنیاد اسلام” بل کے حق میں گفتگو کی اور اسے منظور کرنے پر زور دیا، اسی سلسلے میں لاہور میں مجلسِ احرارِ اسلام کے دفتر میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی جس میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، مولانا احمد لدھیانوی، مولانا عبدالروف فاروقی، ابتسام الہی ظہیر، قاری زوار بہادر، مولانا زبیر احمد ظہیر سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور متنازع بل کی مکمل حمایت کا اعلان کیااور اپنے مذموم مقاصد کیلئے کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ? و اہلبیت ?کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، اور اس کا اختیار مولانا عبدالروف فاروقی کو دے دیا گیا، شرکا نے کہا کہ حکومت پنجاب مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے انہیں بل پر اعتماد میں لے ، شرکا نے کہا کہ آصف اشرف جلالی کو فوری طور پر رہا کیا جائے،ادھر آصف اشرف جلالی کی حمایت میں علماومشائخ کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے مرکزی جنرل سیکریٹری قاری زوار بہادر نے دھمکی دی کہ اگر اشرف جلالی کو محرم الحرام سے قبل رہا نہ کیا گیا تو عزاداری کے جلوس کسی صورت نہیں نکلنے دیں گے۔


































