کسی کے کفر کا فیصلہ کرنا عدالت کا دائرہ اختیارہوگا، دستور پاکستان میں درج مسلمان کی تعریف ہی معتبرہوگی،کوئی شخص اپنے نظریات دوسرے پر مسلط نہ کرے
کوئی شخص نفرت انگیزی پر مبنی تقریر نہیں کرے گا، فرقہ ورانہ موضوعات سے متعلق ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو نہیں کی جائیگی،مشترکہ اعلامیہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کسی کے کفر کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرہ اختیارہوگا، دستور پاکستان میں درج مسلمان کی تعریف ہی معتبرہوگی، کسی شخص، ادارہ یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی یا بے بنیاد الزامات کی اجازت نہیں، کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت اور جبراً اپنے نظریات دوسرے پر مسلط نہ کرے،تمام مکاتب فکر کے علما نے اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام پیغام پاکستان کانفرنس میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے 20 نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی، ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص مسجد، امام بارگاہ یا مجلس میں نفرت انگیزی پر مبنی تقریر نہیں کرے گا، فرقہ ورانہ موضوعات سے متعلق ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو نہیں کی جائیگی، اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، انکی تعلیم، روزگار اور ووٹ کے حق کا تحفظ کیا جائیگا،اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر، مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں، کوئی شخص مسجد، امام بارگاہ یا مجلس میں نفرت انگیزی پر مبنی تقریر نہیں کرے گا، غیر مسلم پاکستانیوں کا حق ہے کہ وہ اپنی مذہبی رسومات اپنے عقائد کے مطابق ادا کریں،فرقہ وارانہ نفرت اور پاکستان کی اسلامی شناخت کے منافی کوئی پروگرام نشر نہ کیا جائے،کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومتی، مسلح افواج یا دیگر اداروں کے افراد کو کافر قرار دے، پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ کیلئے پرامن جدوجہد کریں، کانفرنس میں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، علامہ ساجد میر، حنیف جالندھری، قبلہ ایاز، ڈاکٹر محمد راغب نعیمی، سید افتخار حسین نقوی، راجہ ناصر عباس، فقیر محمد نقیب الرحمان، عارف واحدی، سید ضیا اللّٰہ بخاری سمیت دیگر علما نے شرکت کی
- Home
- خبریں
- قومی خبریں
- فرقہ ورانہ ہم آہنگی کیلئے 20 نکاتی ضابطہ اخلاق (اسلامی…
فرقہ ورانہ ہم آہنگی کیلئے 20 نکاتی ضابطہ اخلاق (اسلامی نظریاتی کونسل نے منظوری دیدی)
-
Ilyas - اکتوبر 9, 2020
- قومی خبریں
- 8
- 0 minute read


































