
اور جب انہیں غصہ آئے تو معاف کر دیتے ہیں۔
سلیمان کی ماں نے الماری کو صاف کرنے کے بعد شیشے کے برتن اس میں رکھ دیے۔ وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی اور آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں گئی۔
تھوڑی دیر بعد: اے خدا! کیا ہوا؟ (شیشہ ٹوٹنے کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی) وہ جلدی سے اٹھی تاکہ دیکھے کہ کیا ہوا ہے۔
سلیمان ٹوٹے ہوئے شیشوں کے درمیان کھڑا اور خوف سے بولے جا رہا تھا۔ امی جان معاف کر دیں۔ پلیز… میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔ میں کھلونے اٹھانے کے لیے الماری پر چڑھا کہ اچانک….
مجھے معاف کر دیں، آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ ماں بیٹے کی اس حرکت پر بہت غصے میں تھی۔ اس کی بیماری کی وجہ عین ممکن تھا کہ اسے کوئی صدمہ پہچتا۔ الماری میں موجود برتن بھی کافی زیادہ ٹوٹ چکے تھے لیکن بچے کے رونے اور التماس کی وجہ سے اس کا دل نرم ہو گیا۔ ماں نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہا: اس بار معاف کر رہی ہوں لیکن وعدہ کرو کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرو گے!
بیٹے نے کہا: جی وعدہ کرتا ہوں۔


































