
عراقی وزیرخارجہ فواد حسین کادورہ تہران،سیاسی و اقتصادی معاملات اور سرحدی مسائل پر بات چیت،علاقائی امور میں غیرملکی مداخلت کی مذمت
امریکی حملہ عراق کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے منافی ہے،جواد ظریف، تکفیری دہشت گردی کو پھیلنے نہیں دیں گے،علی شمخانی نے واضح کردیا
تہران (نیوز ڈیسک)ایران اور عراق نے خطے کے امن واستحکام کیلئے مل کرکام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور علاقائی امور میں غیرملکی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے،عراقی وزیرخارجہ فواد حسین نے تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی ہم منصب جواد ظریف اور دوسرے حکام سے ملاقاتیںکیں ،ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات میں توسیع کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیاگیا، دونوں وزرائے خارجہ نے سیاسی و اقتصادی معاملات اور سرحدی مسائل پر بات چیت کی ، محمد جواد ظریف نے عراق شام سرحد پر امریکی حملے کی مذمت کی اور اسے عراق کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے منافی قرار دیا،انہوں نے عراق کے اندر رونما ہونے والے حالیہ واقعات کو مشکوک قراردیا جس کا مقصد عراق اور ایران کے تعلقات کو نقصان پہنچانا بھی ہوسکتا ہے، عراقی وزیر خار جہ نے کہا کہ عراقی حکومت کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو خراب کرے، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی سے ملاقات میں فواد حسین نے کہا کہ امن کا قیام بغداد کی ترجیحات میں ہے کیونکہ وہ برسوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے،علی شمخانی نے کہا کہ آج عراق طاقتور مرجعیت، سیاسی رہنماو ¿ں کی دور اندیشی اور مزاحمتی گروہوں کی مزاحمت کی وجہ سے سربلند ہے اور اس کی حفاظت کی جانی چاہئے،انہوں نے کہا کہ علاقے میں پھر سے تکفیری دہشت گردی کو پھیلنے نہیں دیں گے، عراق سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں پارلیمنٹ کے قانون کی منظوری میں تاخیر ہی بحران اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنی ہے


































