
بغداد میں ایک ہفتے کے دوران امریکی سفارتخانہ پر دو راکٹ حملے،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، بلد میں امریکا کے ایک فوجی اڈے پر راکٹ داغے گئے
مزاحمتی گروہوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے، کس کو فائدہ ہورہا ہے جلد سامنے لائیں گے ،مشترکہ بیان،نیٹو نے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا اعلان کردیا
بغداد (نیوز ڈیسک)عراق میں امریکی اہداف پر پے درپے حملوں نے صورتحال پیچیدہ بنادی ،مزاحمتی گروپوں نے گرین زون پر حملوں کو امریکا کی اپنی کارستانی قرار دیدیا جس کامقصد مزاحمتی گروپوں کو بدنام کرنا اور فوجی قیام کو طول دینا ہے ،تفصیلات کے مطابق بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارتخانے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا ، علاقے میں دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد امریکی سفارتخانے کے سائرن بجنے لگے ، راکٹ امریکی سفارتخانے کے اطراف میں گرے جس سے کوئی زخمی نہیں ہوا، امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کی فوجی اور سفارتی تنصیبات پر ایک ہفتے کے دوران میں یہ تیسرا حملہ ہے، اس سے پہلے صوبہ صلاح الدین کے شہر بلد میں امریکا کے ایک فوجی اڈے پر راکٹ داغے گئے ،یہ راکٹ بلد ایئربیس میں سیلی پورٹر کمپنی کے سابق دفتر پر گرے، صوبہ ذیقارکے شہر الناصریہ میں امریکی فوج کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی جس میں کئی فوجی زخمی ہوئے ، دھماکے کی ذمہ داری ” اصحاب الکہف ” نے قبول کرلی ، ان حملوں کو جواز بناکر نیٹو نے اپنا قیام اور فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کرلیا، نیٹو کے جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ عراق میں فوجیوں کی تعدادکو8 گنا بڑھایاجا رہا ہے ، ہمارے مشن کا دائرہ اتنا وسیع ہوگا کہ اس میں 500 کے بجائے 4 ہزار فوجی شامل ہوں ، اس قدم کا ہدف دہشت گردوں کے خلاف جنگ اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کی دوبارہ واپسی نہ ہو ، ٹریننگ کی سرگرمیوں کا دائرہ بغداد سے باہر تک کے علاقوں تک پھیلے گا اور اس میں عراق کے سیکیورٹی اداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا، مزاحمتی گروہوں نے گرین زون علاقے پر راکٹ حملے کی مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ اقدام، مزاحمتی گروہوں پر الزامات عائد کرنے اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش کے تحت انجام دیئے گئے ہیں اعلام الامنی نامی میڈیا گروہ نے کہا ہے کہ بغداد کے گرین زون علاقے پر حملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات کے بعد ہی نتائج کا اعلان کیا جائے گا ،عصائب اہل الحق کے سیکریٹری جنرل شیخ قیس الخزعلی نے ٹوئٹ کیا کہ مزاحمتی گروہوں کے شفاف اور واضح فیصلے کے باوجود گرین زون کو مسلسل نشانہ بنانے سے کئی سوال ذہن میں پیدا ہوتے ہیں کہ اس عمل سے کس فریق کو فائدہ ہو رہا ہے ، ہمارے پاس کچھ اہم اطلاعات ہیں جن کو مناسب وقت پر برملا کیا جائے گا


































