
خصوصی کمیٹی معاہدے پر امریکیوں سے مذاکرات کرے گی،ملکی سرزمین ہمسایہ ملکوں پر حملے کیلئے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے، عراقی وزیراعظم
جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کی تحقیقات خصوصی کمیٹی کرے گی،ہمارے پاس اس قتل میں ملوث بعض عناصر کے بارے میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں،کتائب حزب اللہ
بغداد (نیوز ڈیسک)عراق کے نئے وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے امریکا کے ساتھ اسٹریٹیجک معاہدے پر نظر ثانی اورجنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹیاں قائم کرنے کی یقین دہانی کرادی ، کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد مصطفی الکاظمی نے کہا کہ خصوصی بحران کمیٹی، ملکی وحدت اور اقتدار اعلی کے تحفظ کی خاطر، واشنگٹن بغداد اسٹریٹیجک معاہدے پر امریکیوں سے مذاکرات کرے گی،بعد میں وزیراعظم نے بغداد میں متعین امریکی سفیر میتھیو ٹیولر سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ ان کا ملک اپنی سرزمین کو دوست اور ہمسایہ ملکوں پر حملے کیلئے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا،انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عراقی سرزمین دیگر ملکوں سے انتقام کا میدان نہیں ، امریکا اور عراقی حکومت نے 4دسمبر 2008کو سیکیورٹی معاہدہ کیا تھا جس کی آڑ میں امریکا نے عراق میں اپنے مجرمانہ اقدامات اور مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے، مصطفی الکاظمی نے بغداد میں تعینات ایرانی سفیر ایراج مسجدی سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ عراق ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے ،انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور امن کیلئے پڑوسی ممالک کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے،ادھر عراقی حزب اللہ نے کہا ہے کہ مصطفی الکاظمی نے قاسم سلیمانی پر حملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے ،کتائب حزب اللہ نے ایک بیان میں بتایا کہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ نیشنل انٹیلی جنس سروس کے کتائب حزب اللہ کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا، یہ اجلاس وزیراعظم کی ہدایت پرجنرل قاسم سلیمانی پر حملے کی سرکاری پوزیشن واضح کرنے کیلئے ہوا تھا، ہم نے درخواست کی ہے کہ کمیٹی کا کام نہایت شفافیت سے کیا جائے،ہمارے پاس اس قتل میں ملوث بعض عناصر کے بارے میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں،ہم اس جرم کی تحقیقات ، اس میں ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی اور انتقام لینے کی درخواست کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کرسکتے ہیں،امریکا کو اس خوفناک جرم کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔


































