Mon Oct 12, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا ویژن(1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

کسی شخص کے ویڑن کا اس کی آئیڈیالوجی سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا عالمی، ملکی، قومی اور تنظیمی ویڑن آپ کی آئیڈیالوجی کے گرد گھومتا تھا۔ آپ بظاہر شیعہ تنظیموں کے موسس اور امامیہ اور جعفریہ حلقے میں فعال و سرگرم رہے لیکن اس سے ہرگز بہ مراد نہیں کہ آپ کی سوچ، فکر اور ویڑن فرقہ وارانہ اور مخصوص کمیونٹی کے لئے تھا۔ یوں بھی تشیع ایک ایسا مکتب ہے جسے بعض کوتاہ فکروں نے ایک فرقے اور مکتب میں قید کر دیا ہے، وگرنہ تشیع وہی اسلام ناب محمدی، حقیقی خالص محمدی اسلام ہے، جس کی طرف بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) نے اپنی تقاریر، پیغامات اور انٹرویوز وغیرہ میں اشارہ کیا ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی بھی بنیادی طور پر امام خمینی ؒکے حقیقی پیروکار ہوتے ہوئے اپنے آپ کو خالص محمدی اسلام کے ماننے والے اور اسلامی تحریک کو آگے بڑھانے والی موومنٹ کا حصہ سمجھتے تھے۔ یہاں پر بھی ایک بات بیان کرنا ضروری ہے کہ دین اسلام اگرچہ مسلمانوں کا دین ہے لیکن یہ دین بھی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں آیا تھا۔ دین اسلام لانے والے پیغمبر آخر الزمان محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا ایک لقب رحمت للعالمین ہے، یعنی نہ صرف عالم کے لئے بلکہ تمام عالموں کے لئے۔ اس عالم میں صرف مسلمان نہیں بستے بلکہ اس کو کوئی مانے نہ مانے رسول خدا اس کائنات کے ہر ذی روح بلکہ ذرے ذرے کے لئے نبی و رسول اور ہادی ہیں۔
اس نظریئے اور حقیقی اسلام کا پیروکار، فرقوں، قوموں، مکاتب وغیرہ اور جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہوتا ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی نظریاتی اساس چونکہ امام خمینی ؒکے افکار و نظریات تھے، لہذا آپ کا عالمی ویژن بھی وہی تھا جو امام خمینیؒ کا تھا۔ امام خمینی کے اس ویڑن کو سمجھنے کے لئے امام خمینی(رہ) کے الہیٰ وصیت نامہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ امام خمینی ؒاپنے وصیت نامے میں رقم طراز ہیں: "اسلام اور اسلامی حکومت مظہر خداوندی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے سے فرزندان اسلام کو دنیا و آخرت کی اعلیٰ ترین سعادت حاصل ہو جائے گی اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ ظلم و ستم، لوٹ مار، بدعنوانیوں اور جارحیتوں کا قلع قمع کرکے انسانوں کو کمال مطلوب تک پہنچا دے، یہ ایک ایسا مکتب توحید ہے، جو دوسرے مکاتب فکر کے برعکس انسان کے انفرادی، اجتماعی، مادی، معنوی، ثقافتی، سیاسی، فوجی اور اقتصادی شعبوں میں دخیل ہے اور ان پر نظر رکھتا ہے اور اس نے انسان اور معاشرے کی تربیت اور مادی و معنوی ارتقاءکے سلسلے میں معمولی سے معمولی نکتے کو بھی نظر انداز نہیں کیا، اس نے فرد و جماعت کو ارتقاءمیں حائل موانع و مشکلات سے آگاہ کیا ہے اور انہیں دور کرنے کا سلیقہ بتایا ہے۔”
امام خمینیؒ مزید لکھتے ہیں: "جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام چودہ سو سال پرانا مذہب ہے یا تو وہ حکومت، قانون اور سیاست سے واقفیت نہیں رکھتے یا پھر مصلحت کے پیش نظر جان بوجھ کر خود کو انجان ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ عدل و انصاف کے معیار پر قوانین کا نفاذ، ظالم و بے رحم حکومت کا قلع قمع کرنا، فرد و معاشرے کے درمیان عدل و انصاف کو رواج دینا، بدعنوانیوں، بدکاریوں اور مختلف غلط کاموں سے منع کرنا کیا اسلام کے دقیانوسی نظام ہونے کا پتہ دیتا ہے؟ عقل و عدل کے دائرے میں آزادی دلانا، استقلال اور خود کفالت کی طرف بلانا، استعمار کی غلامی سے چھڑانا، استحصال سے بچانا اور ایک معاشرے کو تباہی و فساد سے نکالنے کے لئے عدل و انصاف کے معیار کے مطابق حدود و قصاص اور تعزیرات کا اجراءکرنا اور سیاست نیز عقل و انصاف کے اصولوں پر معاشرے کا چلانا اور ایسی ہی اور بھی سیکٹروں چیزیں کیا وقت کی گزرنے کے ساتھ تاریخ انسانی اور معاشرتی زندگی میں پرانی ہو جاتی ہیں؟”
"اسلام نے حکومت سے نہیں روکا بلکہ ایسے نظام کو ٹھکرایا ہے، جس کی بنیادیں ظلم پر رکھی گئی ہوں اور جس کا مقصد ہوس اقتدار کی تسکین ہو، اس کو ناپسند کیا ہے۔ جس کا مطمح نظر مال و دولت کا اکٹھا کرنا، اقتدار پرستی، طاغوت پرستی اور سرانجام اس دنیا میں غرق ہو جانا ہے، جو انسان کو حق تعالیٰ سے غافل کر دے لیکن اگر کسی حکومت کا مقصد مستضعفین کے حقوق کی بحالی، ظلم و جور کی روک تھام اور سماجی انصاف کو رواج دینا ہو تو وہ حکومت حق ہے۔ اسی لئے سلیمان بن داو ¿د علیہ السلام اور اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے عظیم اوصیاءکوشش کرتے تھے۔ یہ اہم واجبات میں سے ہے اور ایسی حکومت کو برقرار کرنا اعلیٰ ترین عبادت ہے، چنانچہ جس طرح کی صحیح سیاست ان حکومتوں میں پائی جاتی تھی، وہ ضروری و لازم ہے۔”
"میں بھی آج اس شہید راہ حق(شہید مدرس) کو یاد کرتے ہوئے آپ مومن بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ مشرق کی سرخ فوج یا مشرق کی سیاہ فوج کے زیر پرچم شاندار امارت کی زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ ہم امریکہ اور روس کے مجرمانہ ہاتھوں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں اور اپنے خون سے سرخرو ہو کر باعزت طور پر خدا کے سامنے جائیں، یہ انبیائ کرام، ائمہ معصومین اور بزرگان دین مبین کی سیرت اور راستہ ہے، جس پر ہمیں چلنا چاہیئے۔”، "اس روز جب ان شاءاللہ مصلح کل، امام زمانہؑ ظہور فرمائیں گے تو آپ یہ خیال نہ کریں کہ کوئی معجزہ رونما ہوگا اور دنیا کی ایک دن میں اصلاح ہو جائے گی بلکہ کوششوں اور فداکاریوں سے ستمگروں کی سرکوبی ہوگی، پھر کہیں جا کر دشمن گوشہ نشین ہونگے۔”، "اگر بعض منحرف اور بدبخت لوگوں کے نظریئے کے مطابق آپ کا نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے کفر اور ظلم کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیئے، تاکہ دنیا پر ظلم چھا جائے اور ظہور کے امکانات فراہم ہو جائیں تو اس فکر پر اناللہ و انا الیہ راجعون۔”
"تمام مسلمانوں اور دنیا کے مستضعفین سے میری وصیت یہ ہے کہ آپ کو بیٹھ کر اس امر کا منتظر نہیں رہنا چاہیئے کہ آپ کے ملک کے حکام اور صاحبان اختیار یا غیر ملکی طاقتیں آئیں گی اور آپ کے لئے استقلال و آزادی کا تحفہ لائیں گی۔”، "اے مستضعفین عالم! اے اسلامی ممالک اور دنیا کے مسلمانو! تم اٹھ کھڑے ہو اور اپنے حق کو اپنے زور بازو سے حاصل کرو۔ بڑی طاقتوں اور ان کے حلقہ بگوشوں کے تشہیراتی شور و غل سے نہ ڈرو۔ مجرم حکام کو جو تمہاری محنت کے پھل کو تمہارے اور اسلام عزیز کے دشمنوں کے حوالے کرتے ہیں، اپنے ملک سے بھگا دو۔ پابند عہد خدمت گزار طبقے کے ساتھ مل کر تم لوگ خود ملک کے اتنظام کو اپنے ہاتھ میں لے لو اور اسلام کے سربلند پرچم کے نیچے جمع ہو کر اسلام اور ستم رسیدہ انسانوں کے دشمنوں کا مقابلہ کرو، آزاد اور خود مختار جمہوریتوں کے ساتھ ایک اسلامی حکومت کی جانب آگے بڑھو، کیونکہ اگر یہ کر لیا تو دنیا کے تمام سامراجیوں کو ٹھکانے لگا سکتے ہو اور اس طرح تمام مستضعفین تک زمین کی امامت و وراثت پہنچ جائے گی۔ اس روز کی امید کے ساتھ جس کا خداوند عالم نے وعدہ فرمایا ہے۔”
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا ویڑن بھی امام خمینی ؒکے ویژن سے اخذ شدہ تھا، جس کو آپ اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتے۔ آپ عالمی سطح پر محروموں اور مظلوموں کی نجات کی بات کرتے تھے۔ آپ اکثر کہتے کہ سب سے اکثریتی جماعت مظلوموں و محروموں کی ہے، لہذا ہم اس خوف کا شکار نہ ہوں کہ چونکہ ہم شیعہ اقلیت میں ہیں، لہذا دنیا اور ملک میں کچھ نہیں کرسکتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دنیا کے اکثریتی طبقے یعنی مظلوموں کی حمایت کا پرچم بلند کرنا چاہیئے۔ ایک مکتبی شیعہ ہونے کے ناتے آپ ظہور امام زمانہؑ کو اپنا بنیادی ویژن قرار دیتے ہوئے اس انقلاب کے راستے ہموار کرنے پر مسلسل تاکید فرماتے تھے اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔
آپ اپنی گفتگو میں امام زمان کی عالمی حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکثر کہتے تھے کہ کیا امیرالمومنین صرف ایک مکتب اور فرقہ کے لئے تھے۔ کیا ہمارے آئمہ تمام انسانیت کے لئے ہادی و رہنماءنہ تھے۔ آپ نے ایک دفعہ چند دوستوں کی محفل میں اس موضوع پر کھل کر اظہار کیا تھا کہ کیا امام زمانہؑ صرف آئی ایس او اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ یا شیعہ مسلمانوں کے لئے ظہور کریں گے۔ آپ نے اس بات پر تاکید کی تھی کہ ہم امام زمانہ (عج) کو منجی بشریت کہتے ہیں اور ان کی حکومت کو عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ امام زمانہ کی عالمی حکومت کے تصور کا قائل فرد اپنے آپ کو فرقوں، گروہوں اور ملک و ملت کے اندر کس طرح محدود کرسکتا ہے۔
صحیح آئیڈیالوجی انسان کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیتی، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی جس الہیٰ آئیڈیالوجی کے حامل تھے، اس میں مایوسی، ناامیدی اور بے بسی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ انھوں نے ایک تعلیمی ادارے سے ایک طلباءتنظیم کی تشکیل کا ارادہ کیا۔ اس راستے میں کئی رکاوٹیں آئیں، کتنی مایوسیاں پھیلائی گئیں، کتنے طعنے دیئے گئے، کتنے الزامات عائد کیے گئے، کیسی کیسی تہمتیں لگائی گئیں، کبھی کامریڈ، کبھی سرخے کہا گیا اور کبھی علماءدشمن کہہ کر مایوس کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔ آئی ایس او کے قیام کے بعد بھی آپ کے دینی عقائد کو نشانہ بنایا گیا، لیکن آپ کسی موقع پر مایوس نہ ہوئے بلکہ ہر اعتراض اور تہمت نے آپ کے ارادوں کو مزید مستحکم کر دیا۔
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ جو بعد میں تحریک جعفریہ کہلائی، اس کے پلیٹ فارم پر بھی آپ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ زندگی کے آخری ایام میں تو آپ کے لئے تنظیموں کے اندر ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ کوئی عام انسان ہوتا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تنظیمی راستے کو خیر باد کہہ کر ذاتی اور مادی زندگی کی ڈگر پر چل نکلتا، لیکن چونکہ آپ جس آئیڈیالوجی پر کاربند تھے، اس میں مایوسی، ناامیدی اور انسانوں کے اچھے اور برے رویئے کوئی مفہوم نہیں رکھتے تھے۔ آپ نے الہیٰ آئیڈیالوجی کے بل بوتے پر یہ سب کچھ سہا اور کبھی شکوہ بھی زبان پر نہیں لائے۔
آپ آئیڈیالوجی کے حوالے سے بھی امام خمینی(رہ) کو اپنے لئے رہبر و رہنمائ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ امام خمینی کے نظریات کا خود بھی مطالعہ کرتے اور اپنے دوستوں کو بھی اس بات کی تلقین کرتے تھے اور کہتے تھے امام خمینی کے نظریات ہمارے معصومین علیہم السلام کے نظریات کا پرتو ہیں۔
آپ نے امام خمینی ؒکی سیاسی آئیڈیالوجی کو متعارف کرانے کے لئے آپ کے نجف اشرف کے دروس کا مجموعہ "حکومت اسلامی” کو دوستوں کے لئے ضروری قرار دے رکھا تھا اور جب بھی کہیں اجتماعی محافل میں فرصت ملتی، اس کا ذکر یا اقتباس ضرور حاضرین کے سامنے پیش کرتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام خمینی(رہ) کی رحلت کے بعد جب آپ کا الہیٰ وصیت نامہ سامنے آیا تو ڈاکٹر صاحب نے اپنے قریبی دوستوں کو اس کے حصول اور اس کے مطالب پڑھنے کی تلقین کی۔ آپ نے کئی تنظیمی پروگراموں میں نہ صرف وصیت نامہ کے اقتباسات کی طرف اشارہ کیا بلکہ اس پر سٹڈی سرکل اور اجتماعی مطالعہ کی بھی تلقین کی۔ آپ اس وصیت نامہ کو آئیڈیالوجی کا منبع اور ایک قیمتی سورس (source) قرار دیتے تھے اور کہتے تھے امام خمینی(رہ) نے اس وصیت نامہ میں اپنی بھرپور الہیٰ اور مکتبی زندگی کا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی تقاریر، دوستوں کے درمیان گفتگو، انٹرویوز یا ان کے وصیت نامے کے مطالب کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی آئیڈیالوجی اور نظریات توحید، قرآن، امام زمان (ع)، کربلا،امربالمعروف و نہی عن المنکر، آئمہ اطہار کی محبت و مودت، عدالت علوی، آئمہ معصومین کی سنت و شعائر کی قدردانی اور عملی پیروی جیسے منابع اور مبانی پر استوار تھی۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی امام خمینی (رہ) کی آئیڈیالوجی کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیتے تھے اور اس ±ی پر کارمند رہنے کی تاکید فرماتے۔ آپ امام خمینیؒ کی شخصیت سے اتنے متاثر تھے کہ اس حوالے سے آیت اللہ شہید باقر الصدر(رہ) کے معروف قول کو دوستوں کے سامنے بار بار بیان کرتے۔ شہید باقرالصدر نے امام خمینی(رہ) کے بارے میں کہا تھا کہ "امام خمینی کی ذات میں اس طرح ضم ہو جاو ¿، جس طرح وہ اسلام میں ضم ہوچکے ہیں اور یہ امام خمینی ؒسے بےپناہ وابستگی ہی تھی کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی نے امام خمینی کی توضیح المسائل سے لے کر آپ کے وصیت نامہ کو عوام الناس میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد جب بھی نظریات یا آئیڈیالوجی کی بات ہوتی تو آپ امام خمینی کے وصیت نامے کا حوالہ دیتے۔ آپ یوں تو پورے وصیت نامہ کو عالم اسلام کا روڈمیپ قرار دیتے تھے، لیکن وصیت نامہ کے ابتدائیہ اور مقدمہ کو اپنی آئیڈیالوجی کی بنیاد کہتے تھے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی وصیت نامہ کے اس حصے کو کیوں اتنی اہمیت دیتے تھے، قارئین کے لئے اس کا اقتباس نقل کرتے ہیں، تاکہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی آئیڈیالوجی کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:
 "میں تمہارے لئے دو گرانقدر چیزیں کتاب اللہ اور اپنے اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں، یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گئے۔”
 "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور تو پاک ہے، اے پروردگار درود بھیج محمد اور ان کی آلؑ پر جو مظہر ہیں جمال و جلال کے اور خزانے ہیں تیری اس کتاب کے اسرار کے، جس میں احدیت جلوہ گر ہے، تیرے تمام اسماءکے ساتھ حتی کہ اس خاص اسم کے ساتھ بھی جسے تیرے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور لعنت ہو، ان ظلم کرنے والوں پر جو شجرہ خبیثہ کی جڑ ہیں۔” و اما بعد: مناسب سمجھتا ہوں کہ ثقلین (قرآن و اہلبیت) کے بارے میں نہایت اختصار کے ساتھ کچھ عرض کروں، لیکن ان کے غیبی، معنوی اور عرفانی پہلوو ¿ں پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ہے، اس لیے کہ اس رخ سے مجھ جیسے کے لیے قلم اٹھانا دشوار ہے اور ان کی شان میں جسارت بھی ہے، کیونکہ ان کی تجلیاں عالم ملک سے ملکوت اعلیٰ اور وہاں سے بزم لاہوت تک گویا ساری کائنات کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں، جن کا سمجھنا ہم لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر ناممکن نہ سہی تو کم از کم طاقت بشری سے بالاتر ضرور ہے اور نہ ہی ثقل اکبر اور ثقل کبیر سے بچھڑ جانے کے بعد انسانیت پر جو گزری ہے، اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں (بلاشبہ) ثقل کبیر ثقل اکبر کے سوا ہر چیز سے عظیم تر ہے، کیونکہ وہ تو اکبر مطلق ہے۔
اس وقت میں ان مصائب کو بھی بیان کرنا چاہتا ہوں، جو (ثقلین) قرآن و عترت پر دشمنان خدا اور مکار و عیار طاغوتیوں کی طرف سے ڈھائے گئے ہیں بلکہ میں اپنی مصروفیت اور معلومات میں کمی کے سبب ان سارے حوادث کو قلمبند بھی نہیں کر سکتا، صرف سرسری طور پر کچھ حوادث کا تذکرہ کر رہا ہوں، شاید کہ یہ جملہ "لن یفترقاحتی یردا علی الحوض” اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود مقدس کے بعد ان میں سے ایک پر جو گزری ہے، وہی دوسرے پر گزری ہے اور یہ دونوں کسمپرسی و بیکسی کے عالم میں حوض کوثر پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ جائیں گئے اور کیا یہ حوض وحدت سے کثرت کے جا ملنے اور سمندر میں قطروں کے ضم ہونے کی جگہ ہے یا کوئی اور چیز، جس تک انسانی عقل و عرفان کی رسائی نہیں۔؟ بلاشبہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان دو امانتوں پر ستمگروں نے جو ستم ڈھائے ہیں، وہ صرف انہی دو پر نہیں بلکہ یہ مظالم ملت اسلامیہ پر ہوئے ہیں، کہ جن کے بیان کرنے سے قلم عاجز ہے۔
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ حدیث ثقلین مسلمانوں میں حدیث متواتر کی حیثیت رکھتی ہے اور اہلسنت کی صحاح ستہ کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں مختلف مقامات پر الفاظ میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے اور یہ حدیث شریف تمام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کے سارے فرقوں کے لیے حجت قاطعہ ہے۔ لہذا تمام مسلمانوں کو جن پر اس حدیث کے ذریعہ اتمام حجت ہوچکی ہے، جواب دہی کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ سادہ لوح عوام تو معذور سمجھے بھی جا سکتے ہیں، لیکن ان کے مذاہب کے علماءکے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ اب آیئے دیکھیں کہ خدا کی کتاب پر جو الہیٰ امانت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ترکہ تھی، کیا گزری ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد سے ایسے افسوسناک مسائل شروع ہوگئے، جن پر خون کے آنسو بہانا چاہیئں۔
خود خواہوں اور طاغوتیوں نے قرآن کریم کو اپنی قرآن دشمن حکومتوں کے لیے ایک وسیلہ بنا لیا اور قرآن کے حقیقی مفسرین اور اس کے حقائق سے باخبر ہستیوں کو جنہوں نے پورا قرآن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کیا تھا اور جن کے کانوں میں "انی تارک فیکم الثقلین” کی آواز گونج رہی تھی، انہیں اپنے سوچے سمجھے منصوبوں اور مختلف بہانوں سے پس پشت ڈال دیا اور اس طرح انہوں نے اس قرآن کو جو حقیقی معنوں میں انسانیت کے لیے حوض کوثر پر پہنچنے کا ذریعہ اور مادی و روحانی زندگی کے لیے عظیم دستور کی حیثیت رکھتا تھا اور ہے، عملی زندگی سے دور کر دیا اور اس طرح عادل و منصف حکومت کی راہ بند کر دی اور درحالیکہ قرآن کا مقصد اصلی ہی حکومت الہیہ کا تشکیل دینا تھا۔ ان لوگوں نے دین خدا اور کتاب و سنت الہیٰ سے انحراف کی بنیاد رکھی، پھر بے راہ روی یہاں تک پہنچ گئی کہ قلم اس کے ذکر سے شرم محسوس کرتا ہے اور یہ ٹیڑھی بنیاد جوں جوں اوپر اٹھتی گئی، گمراہیوں اور انحرافات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔
یہاں تک کہ وہ قرآن کریم جو دنیا والوں کی رشد و ہدایت اور تمام مسلمانوں بلکہ سارے کنبہ انسانی کو ایک مرکز پر احدیت کے مقام بلند سے کشف تام محمدی پر نازل ہوا تھا، تاکہ انسانوں کو اس مقام تک پہنچائے،جہاں انہیں پہنچنا چاہیئے/ علم الاسمائ کے اس مظہر (انسان) کو شیاطین اور طاغوتوں کے شر سے نجات دلائے، کائنات کو عدل و قسط سے معمور کرے اور حکومت کو معصومین اولیائ اللہ علیہم صلوات الاولین والآخرین کے حوالے کرے، تاکہ وہ اس حکومت کو ایسے شخص کے سپرد کر دیں، جو انسانیت کے لیے مفید ہو۔ لیکن ان خود پرستوں اور طاغوتیوں نے اس قرآن کریم کو میدان سے یوں ہٹا دیا، جیسے ہدایت کے سلسلے میں اس کا کوئی کردار ہی نہ ہو اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ قرآن کریم ظالم حکومتوں اور طاغوتیوں سے بھی بدتر خبیث ملاو ¿ں کے ہاتھوں ظلم و فساد کی برقراری اور دشمنان خدا نیز ظالموں کی "بداعمالیوں” کی توجیہ کا ذریعہ بن گیا۔
مگر ہائے افسوس! کہ سازشی دشمنوں اور جاہل دوستوں کے ہاتھوں یہ تقدیر ساز کتاب صرف قبرستانوں اور مرنے والوں کے ایصال ثواب کی مجالس تک محدود ہو کر رہ گئی اور ابھی تک یہی صوت حال ہے۔ اگرچہ اس قرآن کریم کو تمام مسلمانوں اور سارے انسانوں کی یک جہتی کا ذریعہ اور ان کی زندگی کا لائحہ عمل بننا چاہیئے تھا، لیکن اس کے بجائے وہ تفرقہ اور اختلاف کا باعث بن گیا یا مکمل طور پر عملی زندگی سے ہٹا دیا گیا۔ لہذا یہی وجہ تھی کہ اگر کسی نے اسلامی حکومت کی بات کی یا سیاست کا نام لیا تو گویا اس سے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے، جبکہ اسلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن و سنت کے عظیم کردار سے چھلک رہے ہیں۔ حال ہی میں بڑی شیطانی طاقتوں کے آلہ کار اور اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ نام نہاد اسلامی حکومتوں نے مقاصد قرآن کو مٹانے اور بڑی طاقتوں کے شیطانی عزائم کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے قرآن کو خوبصورت رسم الخط میں چھاپ کر اطراف و اکناف (عالم) میں روانہ کیا ہے اور اس شیطانی حیلے سے قرآن کریم کو عملی زندگی سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔
آپ کو یاد ہے کہ محمد رضا خان پہلوی نے قرآن شائع کرایا تھا، تاکہ عوام پر اپنی گرفت مضبوط رکھے اور بعض مقاصد اسلامی سے بے خبر ملا قرآن کی اس اشاعت پر اس کے مداح بھی تھے، یہی حال شاہ فہد کا بھی ہے اور وہ بھی ہر سال عوام کی بے پایان دولت کا وافر حصہ قرآن کریم کی طباعت اور قرآن دشمن مذہب کے تبلیغی زر خریدوں کیلئے خرچ کرتا ہے اور سراپا بے بنیاد اور خرافاتی مسلک وہابیت کی ترویج کرکے بھولی بھالی قوم کو بڑی طاقتوں کی گود میں پہنچا رہا ہے۔ اسلام عزیز اور قرآن کریم کو مٹانے کے لیے خود اسلام اور قرآن کا سہارا لے رہا ہے۔ ہمیں اور ہماری قوم کو جو سر تا پا اسلام اور قرآن سے وابستہ ہے، فخر ہے کہ وہ ایک ایسے مذہب کی پیرو ہے، جو یہ چاہتا ہے کہ ان حقائق قرآنی کو جو سراسر وحدت مسلمین بلکہ وحدت انسانیت سے معمور ہیں، مقبروں اور قبرستانوں سے نکال کر انسانیت کے عظیم ترین نجات دہندہ کی حیثیت سے عوام میں روشناس کروائے اور ملت اسلامیہ کو ان تمام بندشوں سے جو اس کے ہاتھ پاو ¿ں اور قلب و عقل کو جکڑے ہوئے ہیں اور اسے فنا و نیستی اور سامراج کی غلامی کی طرف کھینچے لیے جا رہی ہیں، رہائی دلائے۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے مذہب کے پیرو ہیں، جس کی بنیاد خدا کے حکم سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی تھی اور امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام جیسے علمبردار حریت نوع بشر کو ہر طرح کی اسارتوں اور غلامیوں سے رہائی دلانے پر مقرر فرمایا۔ ہمیں فخر ہے کہ کتاب نہج البلاغہ قرآن کے بعد مادی و روحانی زندگی کے لیے عظیم دستور، انسانیت کو آزادی عطا کرنے والی بلند ترین کتاب، جس کے روحانی احکام اور حکومتی منشور ہمارے لیے سب سے نمایاں راہ نجات ہیں، ہمارے معصوم امام ؑ کی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے لے کر انسانیت کے نجات دہندہ حضرت مہدی صاحب الزمان علیہم لسلام تک جو قادر مطلق قدرت سے زندہ اور ہمارے امور کے شاہد و نگراں ہیں، تمام ائمہ معصومین ؑ ہمارے امام ہیں۔
ہمیں فخر ہے کہ معصومین علیہم السلام کی "مناجات شعبانیہ” حضرت حسین ابن علی علیہ السلام کی دعائے "عرفات” زیور آل محمد، صحیفہ سجادیہ اور حضرت فاطمہ زہراءسلام اللہ علیہا پر خدا کی جانب سے الہام شدہ کتاب "صحیفہ فاطمیہ” جیسے حیات بخش دعاو ¿ں کے ذخیرے جسے قرآن صاعد کہتے ہیں، ہمارے ائمہ معصومین ؑ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ تاریخ کی عظیم ترین شخصیت باقرالعلوم علیہ السلام جن کی عظمتوں کو خدا، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین ؑ کے سوا کسی نے نہیں پہچانا اور نہ ہی ان کے سوا کوئی (ان کے مقام کو) سمجھ سکتا ہے، ہمارے امام ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا مذہب جعفری ہے اور ہماری بحر بیکراں فقہ ہمارے مذہب کے آثار میں سے ہے۔ ہمیں تمام ائمہ معصومین علیہم صلوات اللہ سے وابستگی پر فخر ہے اور ہم نے ان سب کی پیروی کا عہد کر رکھا ہے۔
ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ائمہ معصومین صلوت اللہ و سلامہ علیہم نے دین اسلام کی سربلندی، قرآن کریم کے عملی نفاذ اور حکومت عدل و انصاف کی تشکیل کے لیے قید و بند اور جلاوطنی کی صعوبتیں جھیلیں اور آخرکار اپنے زمانے کی ظالم اور طاغوتی حکومتوں کے خاتمے کی کوششوں میں شہید ہوگئے۔ آج ہمیں یہ بھی فخر ہے کہ ہم قرآن و سنت کے تقدیر ساز مقاصد و احکام کو نافذ کر رہے ہیں اور اس راہ خدا میں ہماری قوم کے مختلف طبقات کے ہر چھوٹے بڑے بھی جان و مال اور اپنے اعزاءو اقارب کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular