شب ِقدر کی فضیلت اور اہمیت شب قدرولی امرالمسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں:
مختلف مناسبتوں اور مواقع پر لیلتہ القدر کے بارے میں حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی زبان مبارک پر نہایت دلنشین اور سبق آموز باتیں جاری ہوئی ہیں ہیں جن میں سے بعض نکتے اور اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں.
ہمارا عقیدہ ہے (اور یہ اسلام ہی میں نہیں بلکہ تمام ادیان میں بدیہیات اور مسلمات میں سے ہے) کہ انسان محض خدا کے ساتھ اتصال اور ارتباط کی بدولت کمال و ارتقاءکی بلندیوں پر فائز ہوسکتا ہے. البتہ ماہ رمضان ایک غیر معمولی، استثنائی اور ممتاز موقع ہے؛ یہ معمولی شے نہیں ہے کہ خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر اور ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت والی اور انسان کی پیشرفت میں زیادہ مو¿ثر، یہ رات ماہ مبارک رمضان میں ہے. یہ معمولی بات نہیں ہے کہ رسول اکرم اس مہینے کو اللہ کی ضیافت قرار دیتے ہیں؛ کیا ممکن ہے کہ انسان، کریم کے دسترخوان پر وارد ہوجائے اور اس دسترخوان سے محروم ہوکر اٹھے؟ ایسا تب ہی ممکن ہے کہ آپ اس دسترخوان پر وارد ہی نہ ہوں!
جو لوگ اس مبارک مہینے میں خدا کے غفران و رضوان اور خدا کی ضیافت میں وارد نہیں ہوتے یقیناًانہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں مل سکے گا اور حقیقتاً یہ محرومیت حقیقی محرومیت ہے۔یقیناً بدبخت اور شفی وہی ہے جو اللہ کے عظیم مہینے میں خدا کی مغفرت سے محروم ہوجائے۔ حقیقی محروم وہی ہے جو جو ماہ رمضان میں غفران الہی کے حصول میں ناکام رہے۔
لیلتہ القدر، شب ولایت ہے۔ نزول قرآن کی شب بھی ہے اور امام زمانہ (عج) پر ملائکہ اللہ کے نزول کی رات بھی ہے؛ قرآن کی شب بھی ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی شب بھی اور قرآن مجید پوری صراحت کے ساتھ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ اس ایک رات کو اتنی بڑی فضیلتیں کیوں دی گئیں؟ کیونکہ اس رات کو نازل ہوئی خدا کی برکتیں بہت زیادہ ہیں؛ یہ شب “سلام” ہے۔ اول شب سے آخر شب تک اس کے تمام لمحے سلام الہی ہیں۔ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہے جو بندوں پر نازل ہوتا ہے۔
یہ شب، شب قرآن بھی ہے اور شب عترت بھی ہے۔ چنانچہ سورہ مبارکہ قدر بھی سورہ ولایت ہے۔ بہت ہی قابل قدر ہے۔ پورا ماہ رمضان اور اس کی راتیں اور اس کے دن سب بہت بڑی قدر و منزلت کے حامل ہیں۔ البتہ شب قدر ماہ رمضان کے دیگر ایام اور راتوں کی نسبت بہت زیادہ با وقار اور متین و وزین ہے اور اس کی قدر و قیمت اس مہینے کی دیگر راتوں سے بھی بہت زیادہ ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان کے ایام اور اس کی راتیں سال کے دیگر مہینوں کی راتوں اور دنوں سے بہت زیادہ عمدہ اور زیادہ اہم اور قابل قدر ہیں۔ ان دنوں اور راتوں کی قدر و قیمت جان لیں اور ان سے استفادہ کریں۔ان دنوں اور ان راتوں کو آپ سب انعام الہی کے دسترخوان پر حاضر ہیں۔ اس سے استفادہ کریں۔
ماہ مبارک رمضان میں(تمام ایام اور تمام راتوں میں) جتنا ممکن ہو اپنے قلوب کو ذکر الہی سے زیادہ سے زیادہ نورانی کردیں تا کہ لیلتہ القدر کے مقدس حریم میں داخلے کے لئے تیار ہوجائیں وہ رات جس میں ملائکہ زمین کو آسمان سے متصل کردیتے ہیں؛ قلوب پر نور کی بارش برساتے ہیں اور زندگی کے ماحول کو اللہ کے فضل اور لطف سے منور کردیتے ہیں۔
یہ سلام اور معنوی و روحانی سلامتی کی شب ہے۔ دلوں اور جانوں کی سلامتی کی شب، اخلاقی بیماریوں سے شفاء اور صحتیابی حاصل کرنے کی شب، مادی، عمومی اور معاشرتی بیماریوں سے حصول شفاءکی شب ہے۔ اور یہ بیماریاں ایسی ہیں جو افسوس کے ساتھ دنیا کی بہت سے اقوام کا دامن پکڑی ہوئی ہیں اور بہت سی قومیں منجملہ مسلم اقوام ان بیماریوں میں مبتلا ہیں!ان سب بیماریوں سے تندرستی اور شفاءشب قدر میں ممکن اور میسر ہے؛ بشرطیکہ آپ شفاءو تندرستی کے حصول کے لئے آمادہ ہوں۔
شب قدر میں خدا نے آپ کو زاری و تضرع اور گریہ و بکاء، اس ذات باری کی طرف ہاتھ بڑھانے اور اس کے ساتھ محبت کے اظہار اور آنکھوں سے صفا و خلوص اور محبت کے آنسو جاری کرنے کی اجازت دی ہے؛ تو آپ بھی اس موقع کو غنیمت جانیں ورنہ ایسا دن بھی آنے والا ہے جب خداوند متعال مجرمین سے خطاب کرکے فرمائے گا کہ: چلے جاو¿ اور آج بس تم گریہ و زاری مت کرو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔آج کے دن تمہیں ہم سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ یہ موقع زندگی اور حیات کا موقع ہے جو خدا کی طرف بازگشت اور لوٹنے کے لئے مجھے اور آپ کو دیا گیا ہے؛ اور پورے سال میں کچھ خاص ایام بہترین مواقع ہیں اور ان ہی ایام میں سے ماہ رمضان کے ایام بھی ہیں اور ماہ رمضان کے ایام میں شب قدر ہے اور شب قدر بھی ان تین راتوں میں سے ایک ہے۔
مرحوم محدث قمی کی روایت میں ہے کہ سوال ہوا کہ “ان تین راتوں (انیسویں، اکیسویں اور تئیسویں کی راتوں) میں کونسی رات شب قدر ہے؟
تو معصوم (ع) نے فرمایا: کس قدر آسان ہے کہ انسان دو راتوں (یا تین راتوں) کو شب قدر کا خیال رکھے؛ اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ تم تین راتوں میں تردد کا شکار ہوجاو¿، اور پھر تین راتوں کا عرصہ کتنا دراز ہے؟، کتنے بزرگ تھے جو ابتدائے رمضان سے انتہائے رمضان تک کو شبہائے قدر فرض کرلیا کرتے تھے اور اور تمام راتوں کو شب قدر کے اعمال بجالایا کرتے تھے۔
ایک مختصر سا جملہ لیلتہ القدر کی اہمیت کے سلسلے میں عرض کرتا ہوں؛ علاوہ ازیں کہ قرآنی آیت لیلتہ القدر خیر من الف شھرسے سمجھا جاسکتا ہے کہ اللہ کی قدر پیمائی اور تقویم کی لحاظ سے یہ ایک رات ہزار مہینوں کے برابر ہے (بلکہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ہم جو دعا ان ایام میں پڑھتے ہیں اس میں ماہ رمضان کے لئے چار خصوصیات ذکر ہوئی ہیں:
۱۔ اس مہینے کے دنوں اور راتوں کی تفضیل و تعظیم ہے دوسرے مہینوں کے دنوں اور راتوں پر
۲۔ اس مہینے میں روزے کا وجوب
۳۔ اس مہینے میں قرآن کا نزول
۴۔ اس مہینے میں لیلتہ القدر کا ہونا
یعنی اس دعائے ماثور میں ماہ رمضان کو فضیلت دینے میں لیلتہ القدر کے کردار کو نزول قرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے؛ چنانچہ شب قدر کی قدردانی کرنی چاہئے اور اس کی فضیلتوں سے استفادہ کرنا اور فیض اٹھانا چاہئے؛ اس کے لمحوں کو غنیمت سمجھنا چاہئے۔
حضرت امام مہدی ؑ اور ایک سال کے امور کا متعین کرنا:
جو کچھ روایات سے حاصل ہو تا ہے وہ یہ ہے کہ زمین ابتدائے خلقت سے فنا تک کبھی بھی حجت سے خالی نہیں ہو گی۔ خداوند عالم شب قدر میں تمام مقدرات کو اپنے حجت کے پاس بھیج دیتا ہے۔
ابوالضحیٰ ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ قضا پندرہویں شعبان کی رات میں معین کی جاتی ہے پھر اس کو شب قدر میں اپنے صاحبان( ہر عصر کا امام ) کے سپرد کیا جاتا ہے۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ہر سال شب قدر میں ملائکہ اور روح امام زمانہ ؑپر نازل ہوتے ہیں اور سال کے مقدّرات امام ؑکی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔اسی طرح سے امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ شب قدر میں ہر سال کے امور کی تفسیر امام عصرؑ کی خدمت میں نازل ہوتی ہے جس میں خود اور دوسروں کے بارے میں احکام ہوتے ہیں۔
ایک اورروایات میں آ یا ہے کہ خداوند عالم نے قرآن کو شب قدر میں بیت المعور پر اتار ا پھر تیئس سا ل کی مدت میں تدریجی طور پر بیت المعور سے حضرت رسول اکرم پر نازل کیا یعنی شب قدر میں حق اور باطل اور پورے سال کے تمام امور کومقدر کیا جاتاہے بلکہ ان تمام امور میں خدا کی مشیت شامل ہے یعنی موت وحیات ، روزی روٹی، مشکلات و آسانیاں ، بیماریاں وغیرہ میں ہیں جس امر کو بھی چاہیے مقدم و مو¿خر کرتا ہے اور اپنے ارادے کے مطابق عمل کرتا ہے۔ رسول خدا نے یہ امر امیر المومنین ؑکی طرف القا کیا اور آپؑ نے دیگر آئمہ ؑکی طرف القا کیا یہاں تک کہ یہ امر حضرت صاحب الزمان(عج) تک پہنچا اور آپ کے لئے ان امور میں تقدم ومو¿خر کی شرط مقرر ہوتی ہے۔
تفسیر برہان کی ایک تفصیلی روایت کے ذیل میں آیا ہے کہ سائل نے امامؑ سے پو چھا وہ حجتیں کون سے افراد ہیں ؟ آپؑ نے فرمایا : وہ رسول خدا اور دوسرے ایسے افراد جو ان کے نائب ہیں . خدا کے ایسے برگزیدہ انسان ہیں جنہیں خدا نے اپنے اور اپنے رسول کے مقرّبین میں سے قراردیا ہے اور لوگوں پر ان کی اطاعت کوایسے ہی واجب قرار دیا ہے جیسے اپنی اطاعت واجب قرار دی ہے اور یہی دین کے حامیان امرہیں جن کے بارے میں خدا فرماتا ہے:
”ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اورصاحبان امر کی اطاعت کرو“سورہ نساءآیت ۵۹
اور مزید ان کے بارے میں فرمایا:
”اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر آتی ہے تو فوراً نشر کر دیتے ہیں حالانکہ اگر رسول اور صاحبان امر کی طرف پلٹادیتے تو ان سے استفادہ کرنے والے حقیقت حال کا علم پیدا کرلیتے“سورہ نساء آیت نمبر ۸۳
سائل نے پوچھا امر سے مراد کیا ہے امام ؑنے فرمایا : یہ وہی امر ہے جس کو فرشتے ایسی رات میں اپنے ساتھ اتارتے ہیں جس رات کو ہر حکمت آمیز امر کو مقدر کیا جاتا ہے. جیسے ، خلقت ، روزی، موت و حیات، کردار، آسمان و زمین کا علم غیب اور ا یسے معجزات جو خدا اور اس کے منتخب۔ افراد اورسفیروں کے علاوہ کسی اور کے لئے شایستہ نہیں ہے
حضرت امام علی ؑ فر ماتے ہیں: ہرسال شب قدر آتی ہے اس میں ملائکہ تمام سال کے معاملات لے کر آتے ہیں بے شک اس امر کے لئے رسول اللہ کے بعد کچھ والیان امر مقرر ہو ئے ہیں اور وہ ،میں اور میرے صلب سے گیارہ امام جو محدث ہیں ( ان میں سے آخری امام حضرت امام مہدی ؑہیں )
حضرت امام محمد تقی ؑ فرماتے ہیں . ہر سال شب قدر میں تمام امور کی تفسیر امام زمان ؑکی خدمت میں نازل ہوتی ہے جس میں خود امام اور لوگوں کے بارے میں احکام ہوتے ہیں اور اس طرح سے شب قدر کے علاوہ جب بھی خداوند عالم چاہتا ہے امام کی خدمت میں لوگوں کے اعمال کی تفسیر نازل فرماتا ہے۔
شب قدر کے بہترین اعمال کیا ہیں ؟
الف : شب قدر کی فرصت کو غنیمت سمجھنا۔
خداوند معتال نے قرآن کریم میں حضرت رسول اکرم سے مخاطب ہو کر فرمایا :
”ہم نے قرآن کو شب قدر نازل میں کیا ہے مگر آپ کیا جانتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے ؟ ”
شب قدر کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس شب میں انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو انسان اس سے با خبر ہو وہ زیادہ ہو شیاری سے اس قیمتی وقت سے استفادہ کرے گا۔لہٰذا شب قدر کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل یہی ہے کہ انسان اس فرصت کو غنیمت سمجھے یہ فرصت انسان کو ہر بار نہیں ملتی ہے۔
(ب) توبہ :
اس شب کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل توبہ ہے جیسا کہ شہید مطہریؒ فرماتے ہیں: خدا کی قسم ایک ورزش ایک دن کی ہے اس کا ایک گھنٹہ ایک گھنٹہ ہے اگر ایک رات کی تاخیر کریں تو اشتباہ کیا ایسا مت کہے کہ کل کی رات تئیسویں کی رات ہے شب قدر کی ایک رات ہے اور توبہ کے لئے بہتر ہے کہ نہیں۔آج کی رات کل کی رات سے بہتر ہے آج کا ایک گھنٹہ آنے والے کل کے گھنٹہ سے بہتر ہے ہر ایک لمحہ آنے والے لمحہ سے بہتر ہے عبادت توبہ کے بغیرقبول نہیں ہوتی پہلے توبہ کرلینا چاہیے ،پہلے اپنے آپ کو دھونا چاہیے پھر اس پاک و پاکیزہ جگہ میں وارد ہونا چاہیے ہم تو بہ نہیں کرتے ہیں تو کیسی عبادت کرتے ہیں ؟ !ہم توبہ نہیں کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اورنماز پڑھتے ہیں ؟!توبہ نہیں کرتے ہیں اورحج پر چلے جاتے ہیں ؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں ؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اورذکر کہتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں میں شرکت کرتے ہیں ! خدا کی قسم اگر آپ پاک ہونے کے لئے ایک توبہ کریں تاکہ پھر توبہ اور پاکیزگی کی حالت میں ایک دن اور ایک رات نماز پڑھیں وہی ایک دن رات کی عبادت آپ کو دس سال آگے بڑھائے گی اور پروردگا کے مقام قرب کے قریب پہنچائے گی ہم نے دعا کے سوراخ کو گم کیا ہے اور اس کے راستے کو بھی نہیں جانتے ہیں۔ امام علیؑ توبہ کے چھ رکن بیان کرتے ہیں :
۱۔ اپنے گناہوں پر پشیمان ہونا۔
۲۔ ارادہ کرے کہ اب دوبارہ کبھی بھی گناہ نہیں کرے گا۔
۳۔ حقوق الناس ادا کرنا۔
۴۔حقوق الہیٰ ادا کرنا۔
۵۔ جو گوشت رزق حرام سے بدن پر چڑھا ہے وہ پگھل کے رزق حلال سے نیا گوشت بدن پر چڑھے۔
۶۔جس طرح بدن نے گناہوں کا مزہ چکھا ہے اس طرح اطاعت کا مزہ چکھنا چاہیے پس اسی صورت میں خدا نہ صرف اس کو دوست رکھتا ہے بلکہ اپنے محبوب بندوں میں اسے قرار دیتا ہے۔
(ج)دعا:
اب جبکہ بندہ گمراہی اور ضلالت کے راستے کو چھوڑ کے ہدایت اور نور کے راستے کی طرف چل پڑا ہے اور اپنے خدا کی جانب رواں دو اں ہے اب خدا کو پکارے اور اس کے ساتھ ارتباط بر قرار کرے دعا کرے دعا کے اصل معنی یہی ہیں کہ انسان اپنے دل کا حال بیان کرکے در واقع خدا سے ارتباط پیدا کرے۔
(د) تفکر اور معرفت :
اس کے بعد کہ انسان نے فرصت کو غنیمت سمجھ کر اپنے افکار اور اعمال کے اشتباہات سے واقفیت حاصل کرکے یہ ارادہ کر لیا کہ اب کبھی بھی گناہ نہیں کرے گا اپنی اصلاح کرے گا دل شناحت اور معرفت کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے بڑی معرفت ہے اور اس سے دل نوارنی ہو جاتا ہے اور حقیقی معرفت انسان کو بندگی کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا کے خلافت الہی کا وارث بنا دیتی ہے البتہ خود شناسی اس معرفت حقیقی کے لئے پیش خیمہ ہے جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے: ” من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ” یعنی خود شناسی خداشناسی کا سبب بنتی ہے۔
بشکریہ: اہل البیت ڈاٹ او آر جی۔


































