
سعودی عرب کی مخالفت کی وجہ سے سعد الحریری نئی حکومت کے قیام سے گریزاں ، کابینہ کا اعلان کرنے کیلئے غیرملکی اشارے کا انتظارہے، سابق وزیر
نئی کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی ایک بحران بن چکی ہے،کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ فرانس کی مداخلت سے معاملہ حل ہوجائے گا لیکن نہیں ہوا،سابق وزیر
بیروت (نیوز ڈیسک) سعودی عرب لبنان میں نئی حکومت کے قیام میں رکاوٹ بن گیا، لبنانی اخبارالبنا نے رپورٹ دی ہے کہ نئی حکومت کا قیام اور نئی کابینہ کی تشکیل ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی بنیادی وجہ غیر ملکی مداخلت ہے، سعودی عرب حکومت کی تشکیل کو روک رہا ہے کیونکہ وہ سعد الحریری کے وزیر اعظم بننے کے مخالف ہے،اسی وجہ سے سعد الحریری نئی حکومت کے قیام کا اعلان کرنے سے گریزاں ہیں کہیں انہیں تمام بحران کا ذمہ دار نہ ٹہرادیا جائے،لبنان کے سابق وزیر غسان عطا اللہ نے بتایا کہ سعد الحریری مجوزہ کابینہ کا اعلان کرنے کیلئے غیرملکی اشارے کے منتظر ہیں جبکہ لبنان دن بدن تباہ ہوتا جارہاہے ،ادھر ایک اور سابق وزیر طراد حمادہ نے نئی کابینہ کی تشکیل میں رکاوٹوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب لبنان کے بحران کو مزید ہوا دے رہے ہیں ، نئی کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی ایک بحران بن چکی ہے، یہ بحران ملک کے لیے معاشی اور سیاسی پریشانی کا سبب بھی بن رہی ہے ، سیاسی ڈھانچے میں کوٹہ سسٹم اور موجودہ معاشی صورتحال نے سعد الحریری اور مشیل عون کو کابینہ کے قیام سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے سے روک رکھا ہے، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ فرانس کی مداخلت سے لبنانی کابینہ تشکیل دینے کا معاملہ حل ہوجائے گا لیکن فرانسیسی مداخلت بھی کچھ نہیں کر سکی،سعودی اشارے پر ایران کے مشوروں اور مدد کو قبول نہیں کیاگیا، کچھ جماعتوں نے شام کے ساتھ تعلقات کے دوبارہ آغاز کو روک دیا ، بیروت کو بغداد کے ساتھ تعاون کرنے سے بھی ر وکا گیا، اس کے علاوہ امریکہ اور سعودی عرب نے لبنان کی داخلی صورتحال کو مزید بھڑکا دیا ہے،انہوں نے لبنان کی معاشی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ کھلی سیاسی مداخلت بھی کی،جس کے منفی نتاءج برآمد ہوئے ہیں


































