Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

زبان وسیلہ ہدایت یا وسیلہ گمراہی

تحریر: آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
ترقی و بالیدگی کیلئے زبان اور دیگر اعضاء وجوارح سے استفادہ:
خدائے متعال نے جن تمام نعمتوں کو انسان کے وجود میں قرار دیا ہے خواہ وہ اس کے ظاہری اعضاء و جوارح ہوں، جیسے آنکھ، کان، ہاتھ پاؤں وغیرہ خواہ اس کے داخلی اعضاء ہوں خواہ انسان کی غیر مادی خصوصیات کہ جوروحانی پہلو رکھتے ہیں، جیسے تفکر و تخیل کی صلاحیت کہ جو دماغ سے مربوط ہے اور انسان کے روحی جذبات۔
مختصر جو کچھ انسان کے بدن اور روح سے مربوط ہے یہ تمام کی تمام چیزیں انسان کے تکامل و ترقی کے لئے وسائل ہیں نہ کہ مقصد۔ اور نہ ہی ان کی چاہت اور ان کا ماحصل انسان کا آخری مقصد ہے، چیز وں کو ہمیں اس نگاہ سے دیکھنا چاہیے جو انسان کے کمال اوراخروی ثواب کا سبب بنے اس طرح دوسرے تمام اعضاء من جملہ”زبان“۔
انسان کو ایسی بات کرنی چاہیے جو اس کی بلندی اور خدائے متعال کی خوشنودی کا سبب بنے۔ خدا کی تمام نعمتوں کو، خدا کا تقرب حاصل کرنے اور کمال تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دینا چاہیے اور یہ نعمتیں تماشا نہیں ہیں کہ انسان ہر نیت و غرض سے ان کا استعمال کرے۔ انہیں زبان جیسے عضو سے حاصل ہونے والی خواہشات اور نتائج کو اپنا اصلی مقصد نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اس کا اصلی مقصد ان چیزوں سے بلند تر ہے اور انسان کا بات کرنا اصل مقصد نہیں ہے۔ اس لحاظ سے زبان کو خیر کمال کی راہ میں استعمال کرنا چاہیے۔ حضرت امام جعفر صادق ؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
”زبان کی زکوٰۃ مسلمانوں کو نصیحت اور غافلوں کو بیدار کرنا اور فراوان تسبیح و ذکر ہے۔“
بات کرنا وسیلہ ہے اور چونکہ خدائے متعال نے انسان کی خلقت کا مقصد کمال اور اپنا تقرب قرار دیا ہے، لہٰذا اس نیک مقصد تک پہنچنے کے لئے زبان سے فائدہ اٹھانا چاہیے نہ کہ اس کے ذریعے اپنے لئے بدبختی کے وسائل فراہم کئے جائیں۔ سوچ اور سمجھ کے بات کرنی چاہیے اور بیہودہ باتوں سے جو انسان کی اجتماعی و معنوی منزلت کے انحطاط کا باعث ہے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ انسان کا بولنا اس کی شخصیت و منزلت کا مظہر ہے۔ پس اگر انسان نے اپنی بات کے نتائج کے بارے میں سوچے سمجھے بغیر بات کی تو اس نے اپنی بے مایہ ماہیت کو فاش کردیا، چنانچہ حضرت امام علی ؑ فرماتے ہیں:
”بات کرو تاکہ پہچانے جاؤ، بیشک انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔“
دوسری جگہ پر بیہودہ بات کرنے اور اس کے نتیجہ کے بارے میں فکرنہ کرنے کو منافقوں کی صفات جانتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”منافق کی زبان پر جو آتا ہے اسے بولتا ہے اور وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کے نفع میں کیا ہے اور نقصان میں کیا ہے۔“
اس کے برعکس مومن:
”جب چاہتا ہے کہ کوئی بات بولے اس کے بارے میں صحیح طور پر غور و فکر کرتا ہے اگر اچھی ہے تو اسے اظہار کرتا ہے اور اگر بری ہے تو اسے چھپاتا ہے۔“
اگرچہ ہم اجمالاً جانتے ہیں کہ زبان کے وسیلہ سے خدائے متعال کے تقرب کی کوشش کرنی چاہیے لیکن بات اس تقرب کی کیفیت میں ہے اس کی وضاحت میں یہ کہنا بہتر ہے۔ ہماری بات اور گفتگو کبھی عبادت کے زمرے میں ہے، کہ انسان نماز اور عبادت کے دوران کچھ کلمات زبان پر جاری کرتا ہے ہمارا یہ بولنا واجب اور مستحب عبادتوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے مواقع پر زبان ایک وسیلہ ہے اپنے مافی الضمیر کو سمجھانے کے لئے اس کے ذریعہ سے انسان اپنی نیت اور ارادے سے دوسروں کو آگاہ کرتا ہے، اس سلسلہ میں بھی انسان کو الہٰی مقصد ملحوظ رکھنا چاہیے کہ کونسی بات خدا کو پسند اور اس کا تقرب حاصل کرنے کا سبب ہے اور اس میں اخروی ثواب ہیں، اس صورت میں انسان اپنی زبان کو حرکت دینے اور بات کرنے سے رضائے الہٰی تک پہنچتا ہے۔
بعض مواقع پر بات کے مطلوب اور پسندیدہ ہونے کے سلسلے میں شرعی راہ سے معلومات حاصل کرنی چاہیے ورنہ انسان مطلوب کے حدود اور مشخصات کو نہیں پاسکتا ہے۔
بہت سے موقع پر انسان اپنی عقل کے ذریعہ بات کے نیک ہونے کو تشخیص دیتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات پسندیدہ ہے واجب یا مستحب ہے۔ اس صورت میں اگر انسان قصد قربت رکھتا ہو تو اس کی بات عبادت شمار ہوگی، مثال کے طور پر وہ اپنی بات کے ذریعے کسی مظلوم سے ظلم کو دور کرنا چاہتا ہے یا اپنی بات سے کسی مظلوم کا حق ظالم سے واپس لینا چاہتا ہے۔ یہ موارد”مستقلات عقلیہ“ میں سے ہیں کہ عقل ان کو درک کرنے میں آزاد ہے اور اسے حکم شرعی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگراس میں کوئی شرعی حکم بھی نہیں ملتا تب بھی ہم اس بات کو درک کرتے ہیں کہ مظلوم سے ظلم کو دور کرنا واجب ہے اور اگر ہم اپنی بات سے کسی مظلوم سے ظلم کو دور کرسکیں تووہ بات واجب اور رضائے الہٰی کا سبب ہے اگر وہ بات واجب کی حد تک بھی نہ پہنچے تو کم از کم اس کے نیک ہونے کو ہم درک کرتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ یتیم کے سرپردستِ شفقت پھیرنا اور اسے خوش کرنا اور اپنی بات سے مصیبت سے دو چار ہوئے مومن کے غم و اندوہ کو دور کرنا، پسندیدہ ہے۔ ایسی صورت میں اگر انسان قصد قربت کرے تو اس کا عمل عبادت ہے۔ ان مواقع کے مقابلہ میں بعض جگہوں پر ہم فعل کے جائز ہونے کے حدود تشخیص نہیں دے سکتے ہیں، ایسے مواقع پر شرعی احکام کے مانند، شارع کو ہمارے لئے حکم بیان کرنا چاہیے۔ اگرچہ ہماری عقل بعض کلی چیزوں کو درک کرتی ہے لیکن ان کی خصوصیات شرائط اور حدود کو شارع مقدس معین کرتا ہے کہ وہ منابع فقہی سے استنباط کے بعد ہمارے اختیار میں قرار دے لہٰذا ایسے مواقع پر حکم شرع کا انتظار کرنا چاہیے بعض مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ خدا کو پسند نہیں ہیں ان کا انجام دینا صحیح نہیں ہے اور اگر انسان انہیں انجام دے تو اس نے گناہ کیا ہے اسے سزا ملے گی، چونکہ وہ خدا کو پسند نہیں ہیں اس لئے قصد قربت سے وہ عبادت نہیں بن سکتے۔ ایسے موارد کے بارے میں انسان کی عقل مستقل طو رپر تشخیص دیتی ہے اور شارع مقدس کی طرف سے حکم حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر زبان کے ذریعہ دوسروں کو تکلیف دینا، جھوٹ، تہمت اور دومومنوں کے درمیان زبان کے ذریعہ اختلاف پیدا کرنا یہ سب امور عقلی کی بنا پر قابل مذمت ہے۔
مذکورہ باتوں سے ہم نے نتیجہ حاصل کیا ہے کہ بعض باتوں کے پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہونے کو ہم واضح طور پر درک کرتے ہیں اور بعض دوسرے موارد ایسے ہیں کہ جہاں پر پسندیدہ یا ناپسندیدہ باتوں کے حدود و شرائط کو ہمارے لئے شارع مقدس بیان کرتا ہے۔
زبان سے بہرہ مند ہونے اور اس کے آفات سے بچنے کا طریقہ:
یاد رکھنا چاہیے کہ زبان، خدائے متعال کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کی لطیف ترین مخلوقات ہے۔ اگرچہ اس کا حجم چھوٹا ہے لیکن اس کی اطاعت و جرم بڑے ہیں۔ چونکہ کفر و ایمان زبان کے ذریعے سے ظاہر ہوتے ہیں اور یہ دونوں انسان کی اطاعت و عصیان کی سرحد ہیں۔ اس لئے زبان پر کنٹرول کرنے کے لئے کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ زبان کو کھلی ڈھیل دینا انسان کے لئے فروان نقصانات کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان زبان کے شر سے تب محفوظ رہتا ہے۔ جب اسے شرعی احکام اور قوانین کے ذریعہ کنٹرول کرے اور اسے دنیا و آخرت کے فائدہ کے علاوہ کسی اور چیز کے لئے آزاد نہ رکھے اور جہاں پر بات کرنے سے دنیوی و اخروی خطرات کے ایجاد ہونے کا خوف ہو، اسے کنٹرول کرے۔ انسان کو فریب دینے اور غافل کرنے کے لئے شیطان کا سب سے بڑا وسیلہ انسان کی زبان ہے۔ اسی لئے روایتوں میں خاموش رہنے کی تاکید کی گئی ہے چنانچہ پیغمبر اسلام ؐ فرماتے ہیں:
”جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی۔“
زبان کو جھوٹ، تہمت اور غیبت وغیرہ جیسی آفتوں سے محفوظ رکھنا چاہیے اور نیک اور شائستہ گفتگو کرنی چاہیے تاکہ مخاطب یا کسی دوسرے کو کوئی اذیت نہ پہنچے۔ پس ایسے موقع پر گفتگو کرنی چاہیے جہاں اس کی ضرورت ہو اور اس سے کوئی مقصد نکلے ممکن ہے کبھی انسان ایسی بات کہے جس کے نتیجہ میں اس کے لئے بہشت میں ایک محل تعمیر کیا جائے۔ پس جو اپنی بات سے خزانے حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے بجائے خس وخاشاک حاصل کرے تو اس نے بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ یہ مثال اس کے لئے ہے جو ذکر الہٰی ترک کرکے مباح کاموں میں لگ جائے جس کا اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگرچہ اس نے گناہ نہیں کیا ہے لیکن اس لحاظ سے کہ اس نے ایک بڑے فائدے کو جوذکر خدا کے ذریعہ اسے حاصل ہورہا تھا کھو دیا ہے اس لئے وہ خسارے میں ہے چنانچہ امام جعفر صادق ؑ اولیائے الہٰی کی توصیف میں فرماتے ہیں:
”اولیائے الہٰی نے خاموشی اختیار کی ان کی خاموشی ذکر تھی، ان کا نگاہ اٹھا کر دیکھنا عبرت تھا اور انہوں نے گفتگو کی ان کی گفتگو حکمت تھی۔ وہ لوگوں کے درمیان پیادہ روی کی اور ان کا چلنا برکت تھا۔“
انسان کی سعادت و شقاوت اس سے بڑھ کر معاشرے کی تعمیر یا ایک سماج کے اقدار کی بیخ کنی کرنے مین زبان کا جو نقش رہا ہے اس کے پیش نظر خدائے متعال اور اولیائے الہٰی کی طرف سے اس کے متعلق بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے کہ انسان اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے اور اجتماع و اسلامی آرا نیز رفتار سے آگاہی حاصل کرے اولیائے دین کی رفتار و کردار کے طریقوں کو اپنے لئے نمونہ قرار دے اپنی زبان کو خود سازی اور معاشرے کی اصلاح کے لئے استعمال کرے۔ اس لحاظ سے زبان کو کنٹرول کرنے اور اس سے صحیح استفادہ کرنے کا بہترین طریقہ انبیاء و الیاء الہٰی کی بات کرنے کے آداب کو مد نظر رکھنا ہے۔
معاشرت کے درمیان انبیاء لوگوں کو بات کرنے کے بہترین آداب کے طریقہ پیش کئے۔ نمونے کے طور پر ان کفار کے ساتھ انجام شدہ استدلالی مناظر پیش کئے جاسکتے ہیں جو قرآن مجید میں بھی نقل ہوئے ہیں اس طرح جو باتیں وہ مومنوں کے ساتھ کرتے تھے اور جو مختصر سیرت ان کی نقل ہوئی ہے۔ اگر ہم پیغمبروں کی کفار اور ہٹ دھرم افراد کے ساتھ کی گئی گفتگو کی جانچ پڑتال کریں تو ہم اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی کہ جو کفار کے لئے خوشی کا باعث نہ ہو اور بے ادبی اور بے احترامی پر مبنی ہو۔ جی ہاں خدا کے پیغمبر کفار کی طرف سے اس قدر مخالفت، گالم گلوچ، طعنہ زنی، بے احترامی اور مذاق اڑانے کے باوجود جواب میں بہترین بیان اور خیر خواہانہ نصیحتوں کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے اور ان سے جدا ہوتے وقت سلام کئے بغیر جدا نہیں ہوتے تھے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular