آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
یہاں پر مناسب ہے ذکرلفظی کی اہمیت کو بڑھانے کے لیے ایک دو نکتوں کی طرف اشارہ کیا جائے۔
پہلا نکتہ ذکر لفظی کے سلسلے میں ہے جو کسی حد تک عرفانی پہلو کا بھی حامل ہے اس مسئلے سے متعلق ہے کہ بدن کا ہر حصہ خداوند عالم کی بندگی اور اطاعت میں استعمال ہو۔ آنکھ کی عبادت یہ ہے کہ پروردگار عالم کی خلق کردہ نشانیوں اور آیات کو دیکھے اسی بنا پر آیات قرآن کی طرف نگاہ کرنا، مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کو دیکھنا عبادت ہے کان کی عبادت یہ ہےکہ قرآن کی آیتوں کو سنے لہذا قرآن کی آیتوں کو سننا عبادت کے زمرہ میں شامل ہے۔ دل اور قلب کی عبادت یہ ہے کہ اسے محبت خدا کا ظرف قرار دیا جائے۔ اسی طریقے سے زبان بھی عبادت خدا میں حصہ دار ہے کہ وہ ذکر خدا کرے۔
دوسرا نکتہ ذکر لفظی کی حکمت کے بارے میں بیان ہوا ہے جو تربیتی پہلو رکھتاہے اگر ہم خدا کی طرف توجہ کرنا چاہیں تو دھیرے دھیرے اس توجہ کو متمرکز کرنے کی کوشش کریں تو اس کے لیے ہمیں مشق اور پریکٹس کرنا پڑے گی۔ اس مشق اور تمرین کے لیے زبانی اور لفظی ذکر کرنا قلبی ذکر کی نسبت بہت آسان ہے۔ تمام امور میں جہاں تمرین اور مشق کی ضرورت پڑتی ہے وہاں کام کو ہمیشہ سادہ اور آسان مرحلے سے شروع کیا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد آہستہ آہستہ سخت اور دشوار مشقوں کو انجام دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ قاعدہ عرفان اور سیر و سلوک کے سلسلے میں بھی جاری ہے۔ایک عام انسان کے لیے یہ بہت سخت ہے کہ وہ یکدم اپنی توجہ کو دنیا کی تمام چیزوں اور اپنی مادی زندگی سے ہٹا کر خدا کے لیے وقفت کر دے لیکن یہ کام عام انسانوں کے لیے چوبیس گھنٹوں میں چند منٹ یا ایک دو گھنٹہ ممکن ہے۔ درس پڑھنا، مطالعہ کرنا، رزق و روزی کمانا، دوسروں کی مدد کرنا ،مومن بھائیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا، اور اس طرح کے دوسرے امور میں کہ جو ہم روزانہ انجام دیتے ہیں خدا کی طرف توجہ کرنا ان امور کی انجام دہی کے ساتھ بہت مشکل کام ہے۔ ہم میں سے بہت سارے حتیٰ نمازوں میں جہاں دلی توجہ ضروری ہے بڑی مشکل سے نماز کے شروع میں اللہ اکبر کہتے ہوئے اور بسم اللہ کہتے ہوئے توجہ کر پاتے ہیں۔ اور اسکے بعد ہماری توجہ کہیں اور ہوتی ہے اور ہم نماز کے آخر تک یاد خدا اور نماز سے غافل رہتے ہیں۔ اس اعتبارسے عام انسانوں کے لیے ذکر لفظی ہی آسان اور راحت ہے اگر انسان اپنے آپ کو ذکر لفظی کرنے کا عادی بنالے آہستہ آہستہ یہی چیز سبب بنے گی لفظی ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معنی کی طرف بھی توجہ کرے گا۔ اور اس اعتبار سے لفظی ذکر دلی توجہ کے لیے ایک مناسب راستہ اور وسیلہ بن جائے گا۔ لہذا ذکر لفظی ایک مناسب وسیلہ اور ذریعہ ہے دلی توجہ پید اکرنے کے لیے خاص کر کے ان افراد کے لیے کہ جنہوں نے اس راستے میں قدم رکھا ہے۔
بہر حال، اگر چہ ذکر لفظی ایک ضروری امر ہے اور اس کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن یہ توجہ کرنا چاہیے کہ عرفان اور سیر و سلوک کی راہ میں ذکر قلبی بھی خاص اہمیت اور آثار و فوائد کا حامل ہے۔ ذکر قلبی کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہماری اس معنوی حرکت اور سیر و سلوک کی بنیاد یہی ہے کہ ہم دلی طور پر خدا کی طرف متوجہ ہو جائیں خدا ہمارے دل و جان و روح کی اندر حاضر رہے۔ جیسا کہ حج اور خانہ کعبہ کے طواف کے دوران خدا کی طرف توجہ کرنا اور اپنے محبوب کی تجلیات کے اطراف دل کا طواف کرنا ہوتاہے۔ اگر انسان سینکڑوں میل راستہ طے کرے اور مکہ اور خانہ خدا کے قریب جا کر اپنے دل کو صاحب خانہ کے حوالے نہ کر سکے اور اس کی طرف توجہ پیدا نہ کر سکے اور وہاں پر بھی اس کی توجہ مادی امور اور روزمرہ کاموں کی طرف رہے تو اس سفر اور زیارت سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔ بہت ساری عبادات کے بارے میں روایت ہوئی ہے کہ اگر ان عبادات کے ساتھ عمل نہ ہو تو کوئی فائدہ ان سے حاصل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر نماز شب کے بارے میں حدیث میں ہے:
"کئی ایسے نماز شب پڑھنے والے اور راتوں کو جاگنے والے ہیں کہ جن کو اس عمل میں سوائے بیداری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا”۔
لہذا قلبی ذکر کے بارے میں ایک اہم نکتہ کو بھولنا نہیں چاہیے اور وہ توجہ اور دلی یاد ہے کہ جو اصل ہے اور اگر پوری عمر بھی ہماری ذکر لفظی میں صرف ہو جائے اس حال میں کہ ذرہ برابر حضور قلب پیدا نہ ہو پائے تو یقینا تکامل روح حاصل نہیں ہو گا۔
علاوہ ازیں ذکر کی اساس اور بنیاد ذکر قلبی ہے۔ اور ذکر قلبی کا، ذکر لفظی کی نسبت ایک امتیاز یہ ہے کہ ذکر قلبی کے اندر ریا نہیں پائی جاتی۔راہ تکامل میں ایک جو بڑی مشکل ہمارے سامنے آتی ہے اور ہمارے اعمال کو برباد اور فاسد کر دیتی ہے وہ ہے ریا کاری اور دکھاوا۔ لیکن یہ مشکل ان اعمال اور عبادت کے سلسلے میں کسی حد تک منتفی ہو جاتی ہے جو باطن سے مربوط ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزہ انہیں عبادات میں سے ایک ہے روزے کا چونکہ کوئی ظاہری اثر نہیں ہوتا جب تک کہ انسان خود کسی سے نہ کہے کہ مجھے روزہ ہے دوسرے اس کے روزہ دار ہونے سے باخبر نہیں ہو سکتے۔ ذکر قلبی کا بھی یہی امتیاز ہے۔ہم مثلا بظاہر آسمان کو دیکھتے ہیں درخت کو دیکھتے ہیں پھولوں کو دیکھتے ہیں لیکن باطن میں پھولوں کی خوبصورتی اور آسمان کی عظمت سے متاثر ہو کر خدا کی تسبیح اور تحلیل کرتے ہیں۔ جو شخص ہمارے ظاہر کو دیکھتا ہے یہی سوچتا ہے کہ ہم پھولوں درختوں اور آسمان کو دیکھنے میں مشغول ہیں لیکن وہ ہمارے باطن سے بے خبر ہے۔یہی فرق ہے ذکر قلبی اور ذکر لفظی میں۔ ذکر لفظی اگر بلند آواز سے کیا جائے تو سب سنتے ہیں اور اگر آہستہ کیا جائے تو دوسرے ہمارے ہونٹوں کی حرکت سے سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں کچھ پڑھنے میں مشغول ہے۔مگر یہ کہ انسان تنہا یا خلوت میں ذکر کرے۔بہرحال ذکر قلبی میں ریا کاری کا شائبہ نہ ہونا اس کے لیے ایک بہت بڑا امتیاز شمار ہوتا ہے۔
ایک دوسرا نکتہ جس کا ذکر کرنا نا مناسب نہیں ہوگا اولیاءخدا کے ذکر قلبی کے بارے میں ہے۔ اولیائے خدا کا ذکر اور ان کی خدا کی طرف توجہ ایک خاص حساب و کتاب کا حامل ہے۔ زیارت جامعہ میں اس سلسلے میں ملتا ہے:
آپ ایسے قلوب کے مالک ہیں کہ خدا خود ان کی تربیت کا ذمہ دار ہے۔
اس مقام پر خدا خود دلوں کے اختیار کی لگام اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور انہیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے یہ چیز معصومین علیھم السلام سے مخصوص نہیں ہے بلکہ جو شخص بھی خداوند عالم کی عبادت اور بندگی کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے خدا اس کی تلاش و کوشش سے زیادہ اس کی مدد کرتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی خدا کے بندے ہیں اور انہوں نے خدا کی راہ میں قدم اٹھایا ہے اگر کبھی کبھی غفلت ان پر طاری ہوتی ہے تو خدا خود انہیں بیدار کر کے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حتیٰ ممکن ہے وہ چیزیں جو دوسرے نہیں دیکھتے انہیں دکھلاتا ہے تاکہ ہمیشہ انہیں طرف توجہ رکھے۔ ہاں یہ ایک مخصوص مقام ہے کہ اگر محب اپنے محبوب سے غافل ہو جاتا ہے تو محبوب خود اس کی تلاش میں آجا تا ہے۔ اور اس کی آنکھوں کے سامنے جاتا ہے اور اس کے دل کو چرا لیتا ہے۔تاکہ اس کی نگاہ کو غیر سے ہٹا دے۔


































