
یہ ایکٹ دراصل فیٹف کو جواز بنا کر مساجد، مدارس، مزارات اور رفاہی اداروں کی خود مختاری آزادی ختم کرنے کی ابتدا ہے
وقف ترمیمی پراپرٹیز ایکٹ فیٹف کو جواز بنا کر مساجد، مدارس، مزارات اور رفاہی اداروں کی خود مختاری و آزادی ختم کرنے کی ابتدا ہے،آل پارٹیز کانفرنس
لاہور(نیوز ڈیسک) دین کو سرکاری تحویل میں لینے اور مساجد، مدارس اور فلاحی ادارے ویران کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے،نظام مصطفیٰ پارٹی، مرکزی جماعت اہل سنت ،، امت واحدہ پاکستان، مہناج القران سمیت 40دینی و سیاسی جماعتوں نے وقف ترمیمی پراپرٹیز ایکٹ کو دین میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ، شرکا نے کہا کہ ریاست مساجد، مزارات اور اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کرنے والے اداروں کو تحفظ دینے کی پابند ہے ، ترامیم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ڈونر حضرات کو ان کے اثاثہ جات، بینک اکاو ¿نٹس کی تفصیلات پوچھ کر ہراساں کیا جائے تاکہ وہ عطیات دنیا بند کر دیں، مساجد، مدارس اور فلاحی ادارے ویران ہو جائیں، بیورو کریسی اور حکومت یہ چاہتی کہ دین کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے، تاکہ سرکاری فتوے جاری ہوں، سرکاری خطبہ ہو اور ملک کو بادشاہت کی طرز پر چلایا جائے، تفریحی مقامات اسکول اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں، لہٰذا مزارات اولیا کو بھی زائرین کے لیے کھول دیا جائے،یہ ایکٹ دراصل فیٹف کو جواز بنا کر مساجد، مدارس، مزارات اور رفاہی اداروں کی خود مختاری آزادی ختم کرنے کی ابتدا ہے،پیر سید حبیب عرفانی نے کہا کہ اوقاف بل پر نظرثانی کے لیے کمیٹی بن گئی ہے، جس میں حکومت کے نمائندے اور علما و مشائخ شامل ہیں، ان شا اللہ خوش اسلوبی سے معاملے کو حل کر لیا جائے گا ۔


































