وہ گاڑی سے اترا اور بڑی تیزی سے ہوائی اڈے کی جانب لپکا؛ جہاز اڑان بھرنے کو تیار تھا اور اسے ایک کنفرنس میں شرکت کرنی تھی جو اسی کے اعزاز میں دی جا رہی تھی۔ جلدی جلدی جہاز میں پہنچ کر اپنی مقررہ نشت پر بیٹھا اور ابھی جہاز اڑان بھر کر کچھ ہی دور گیا تھا کہ اچانک اعلان ہوا: آسمانی بجلی کے کڑکنے ، اور تیز اور طوفانی بارش کی وجہ سے انتظامی آلات میں خلل واقع ہو گیا ہے، لہذا جہاز کو نزدیک ترین ہوائی آڈے پر اتارا جا رہا ہے۔ وہ جہاز سے اترتے ہی ہوائی اڈے کے عملے کے پاس پہنچا اور کہا: میں ایک جانا مانا عالمی مشہور ڈاکٹر ہوں، میرے لیے میرا ایک ایک منٹ انسانوں کی جانوں کے برابر قیمت رکھتا ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں 14 گھنٹے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہوں؟ کارکنوں میں سے ایک بولا: جناب ڈاکٹر ذیشان صاحب! اگر آپ کو زیادہ جلدی ہے تو ایک گاڑی کرائے پر لے کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیے ، یہاں سے گاڑی میں وہ مقام تین گھنٹے سے زیادہ دور نہیں۔ اس نے ایک گاڑی کرائے پر لی اور اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہو گیا ، لیکن یہاں بھی قسمت کام نہ آئی، موسلا دھار بارش اور جھکڑ آڑے آ گئے اور وہ سفر جاری نہ رکھ سکا، ابھی یہ راہ میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے تھے کہ احساس ہوا راستہ گم ہو گیا ہے، ناامیدی کے ساتھ آگے چل ہی رہے تھے کہ اچانک ایک چھوٹے سے گھر پر نظر پڑی، اس طوفان میں غنیمت جان کر نیچے اترا اور جا کر دروازہ بجا دیا۔ آواز آئی: جو کوئی بھی ہے اندر آ جاؤ دروازہ کھلا ہے۔ اندر ایک بڑھیا زمین پر جانماز بچھائے بیٹھی تھی ۔ اس نے کہا: ماں جی اجازت ہے میں آپ کا فون استعمال کر لوں؟ بڑھیا مسکرائی اور بولی: بیٹا کون سا فون؟ یہاں تو نہ بجلی ہے نہ فون! لیکن تم بیٹھو، سامنے چائے رکھی ہے پیالی میں ڈال کر پی لو تھکن دور ہو جائے گی اور کھانے کو بھی کچھ نہ کچھ رکھا ہو گا ، کھا لو تاکہ آگلے سفر کے لیے جان پکڑ لو۔ ڈاکٹر نے بڑھیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیالی میں چائی ڈالی اور پینے میں مشغول ہو گیا جبکہ کہ بڑھیا نماز و دعا میں مشغول تھی۔ اچانک بجلی چمکی تو ان کی نظر اس بڑھیا کی جا نماز کی بغل میں پری جہاں ایک بچہ کنبل میں لپٹا پڑا ہے جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلاتی جا رہی ہے۔ جب کافی دیر بعد بڑھیا نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو ڈاکٹر نے کہا: میں آپ کے اس اخلاق اور لطف و کرم کا مشکور ہوں، میرے لیے بھی دعا کیجئے ، آپ کے اخلاق حسنہ اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ آپ کی دعا ضرور قبول ہو گی۔ بڑھیا بولی: نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں تم مسافر ہو اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اللہ نے دیا ہے ۔ میں نے تمہارے لیے بھی دعا کی ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس نے میری ہر دعا سنی ہے، بس ایک دعا کی قبولیت میں شاید اسے کچھ وقت درکار ہے سو جب وہ چاہے… ڈاکٹر نے پوچھا: کون سی دعا؟ بڑھیا بولی: یہ جو بچہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ادھ موا پڑا ہے، میرا پوتا ہے، نہ اس کی ماں زندہ رہی نہ باپ، اس بڑھاپے میں اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے، ڈاکٹر کہتے ہیں اسے کوئی موزی مرض ہے، جس کا وہ علاج نہیں کر سکتے، کہتے ہیں ایک ہی ڈاکٹر ہے بڑا نامی گرامی، کیا نام بتایا تھا اس کا۔۔۔! ہاں ذیشان … وہ اس کا آپریشن کر سکتا ہے۔ لیکن میں بڑھیا کہاں اس تک پہنچ سکتی ہوں ؟ لے کر جاؤ بھی تو پتہ نہیں قبول کرے یا نہ کرے، میری تو خیر ہے یہ بچارہ بچہ خوار ہو جائے گا؛ بس اب اللہ سے ہی امید ہے کہ وہ میری مشکل آسان کر دے…!ڈاکٹر کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں؛ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا: خدا کی قسم، آپ کی دعا نے ہوائی جہاز کو نیچے اتار لیا ، آسمان پر بجلیاں چمکا دیں، مجھے رستہ بھلوا دیا تاکہ میں یہاں تک کھینچا چلا آؤں، خدا کی قسم ، مجھے یقین نہیں آتا کہ خدا ایک دعا کو اس طرح قبول کر کے اپنے بندےکے لیے یوں اسباب فراہم کرتا ہے۔ پیارے بچو! جب ہاتھ سے تمام اسباب نکل جاتے ہیں تو بھی وہ مسبب الاسباب یونہی سبب پیدا کر دیتا ہے، شرط فقط لو لگائے رکھنے کی ہے۔ دعا پہاڑ کو ہلا سکتی ہے، بادل کو برسا سکتی ہے، پتھر میں سوارخ کر سکتی ہے، تجھے نہیں معلوم خدا نے تجھے انبیاء کے اسلحے سے لیس کیا ہے، ایک مرتبہ اسے استعمال کر کے تو دیکھ….!
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- دعا کی طاقت
دعا کی طاقت
-
Ilyas - جنوری 28, 2021
- بچوں کا نوائے اسلام
- 9
- 0 minute read


































