
■کہتے ہیں ایک بچہ اس گندے پھٹے بوسیدہ بدبودار کمبل کو نہایت سلیقے سے تہہ لگا کر سنبھالرہا تھا جو اس کی والدہ اس کے دادا ابو کو گھر کے علیحدہ ایک کونے میں چارپائی پر ڈال کر اوڑھنے کے لئے دیتی تھی!
باپ نے پوچھا:
بیٹا اس میلے کچیلے گندے کمبل کو اتنا سنبھال سنبھال کر پیک کر کے کیوں رکھ رہے ہو؟
بچے نے معصومیت سے جواب دیا:
ابو جان کل آپ کو بھی تو بوڑھے ہونا ہے… آپ کو بھی اس کی ضرورت پڑے گی… اس لئے میں آج سے ہی اس کو سنبھال کر رکھ رہا ہوں۔
باپ نے یہ سنا تو اس کے ہوش ہی اڑ گئے اور اس نے اپنے والد کو گرم کمرے میں لٹایا اور اعلی قسم کا لحاف دے کر اس کی خدمت شروع کر دی تاکہ کل میری اولاد میرے ساتھ ایسا نہ کرے.
■اسی طرح ایک جوان اپنے بوڑھے باپ سے تنگ آکر اس کو دریا میں پھینکنے گیا…
باپ نے کہا:
بیٹا! ذرا اور آگے گہرائی میں دریا کے اندر جاکے مجھے پھینکو!
بیٹے نے کہا:
یہاں کنارے پہ کیوں نہیں… اور وہاں گہرائی میں کیوں.؟
باپ نے جواب دیا:
اس لئے کہ یہاں تو میں نے اپنے باپ کو گرایا تھا.
بیٹا کانپ اٹھا کہ کل یہی انجام میرا بھی ہوگا. لہذا وہ باپ کو گھر لے آیا اور اس کی خدمت شروع کر دی.
■دوستو!
یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ آج آپ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کریں اور کل آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار ہو اور آپ کے لئے فتنہ، آزمائش اور دنیا کی ہنسی کا باعث نہ بنے،
●کانٹے بو کر گلابوں کی توقع رکھنا عبث ہے،
●خزاں کے موسم میں بہاروں کی امیدیں باندھنا نادانی ہے،
●بنجر زمینوں میں تخم ریزی کر کے نخلستان کے خواب دیکھنا حماقت ہے.
●اگر چنبیلی اور گلابوں کی پیوند کاری کرو گے تو یقینًا طرح طرح کی مہکتی خوشبوؤں کے سنگ، زیست کے رنگ اور گل رنگ نظارے ہی دیکھو گے.
اس لئے کہ یہی پروردگار کا قانون ہے.
■آج سے اپنے والدین کو پھولوں کی سیج پر بٹھائیں، ان کے احکامات سر آنکھوں پر رکھیں، انہیں اُف تک نہ کہیں.
تاکہ کل آپ کی اولاد آپ کے سر پر عزت و وقار اور قدر دانی کا تاج پہنائے.
■یہ دنیا دار عمل ہے… آخرت دار جزا ہے. دارجزا میں بدلہ پانے سے پہلے اس دنیا میں ہی بہترین جزا کے حقدار بن جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ (ص) کی شفاعت کے حقدار ٹھہریں.


































