ایک دن امیر المومنین ؑ نے مسجد میں داخل ہوتے وقت ایک شخص کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام دی اور فرمایا: میرے واپس آنے تک میرے گھوڑے کا خیال رکھنا۔ جب آپؑ مسجد سے باہر نکلے تو آپؑ کے ہاتھ میں دو درہم تھے۔ جو آپؑ اس شخص کو اجرت کے طور پر دینا چاہتے تھے جس کے حوالے آپؑ نے گھوڑا کیا تھا لیکن آپؑ نے باہر نکل کر دیکھا تو اس شخص کا کہیں اتا پتا نہیں تھا اور گھوڑے کی لگام بھی غائب تھی۔ آپؑ نے غلام کو دو درہم دے کر فرمایا: جاﺅ بازار سے لگام لے کر آﺅ۔ غلام گیا تو آپؑ کے گھوڑے کی لگام ایک دکان پر لٹکی ہوئی تھی۔ غلام نے پوچھا : یہ لگام تمہیں کون دے گیا ہے؟
دوکاندار نے کہا: ابھی چند لمحات قبل ایک نوجوان یہ لگام میرے پاس دو درہم میں بیچ کر گیا ہے۔
غلام نے دوکاندار کو دو درہم دیئے اور لگام واپس لے لی۔
جناب امیر المومنین ؑ نے فرمایا: وہ خود ہی بدبخت تھا میرا تو ارادہ تھا کہ میں اسے دو درہم دوں گا لیکن اس نے جلد بازی کرکے رزق حلال کو رزق حرام میں تبدیل کرلیا اور مقدر سے زیادہ اسے کچھ بھی نہ ملا۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- جلد بازی اور رزقِ حرام
جلد بازی اور رزقِ حرام
-
Ilyas - نومبر 5, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 8
- 0 minute read


































