Mon Oct 12, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

تنہا انجمن ،ساحر لکھنو ¿ی

تحریر:علامہ حسن ظفر نقوی
یہ تحریر اس شخصیت کے بارے میں ہے جن کے بارے میں اہل ادب کی اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ ساحر لکھنو ی کیا رخصت ہوئے،قصیدہ نگاری ہی رخصت ہوگئی۔ بہرحال اس قول میں مبالغہ بھی ہو سکتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ساحر لکھنو ¿ ی کے بعد اب ڈھونڈنا پڑے گا کہ قصیدے کو اس کے لوازمات اور اہتمام کے ساتھ کہنے والا کہیں مل جائے۔ قصیدہ نگاری تو ساحر صاحب کے علمی و ادبی قدوقامت کا اندازہ لگانے کا ایک وسیلہ ہے ورنہ آپ اگر ان کی مرثیہ نگاری، نوحہ، حمدو نعت و منقبت پر بات کریں گے تب بھی ساحر لکھنو ¿ی اپنے جداگانہ انداز کے ساتھ جلوہ گر نظر آئیں گے اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ جب آپ صاحب کی نثرنگاری کی طرف آئیں گے تو ضرور متحیر ہوں گے کہ تاریخ جیسے وسیع اور عمیق موضوع پر جب صاحب نے قلم اٹھایا تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ یہ شخص ساری زندگی صرف تاریخ کے مضمون ہی کا متخصص (Specialist) رہا ہے۔ تاریخ کے کسی بھی ذیلی موضوع پر ایک کتاب لکھنے کے لئے علم تاریخ پر پوری گرفت ضروری ہے اور علم تاریخ پر صاحب کی یہ گرفت ان کی تاریخی تحریروں میں پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ان کی تحقیقی اور تنقیدی تصنیف ”برصغیرمیں تشیع اور اجتہاد“ اور ”خاندان اجتہاد کے مرثیہ گو (ماہر سے تک)“ میں وہ ایک ماہر علم تاریخ کی حیثیت میں نظر آتے ہیں اور پھر خود علم تاریخ پر ایک معرکتہ الآراءمقالہ ”فن تاریخ گوئی کا تنقیدی جائزہ“ بھی صاحب کے فن تاریخ پر مہارت کا گواہ ہے۔ لیکن اکثر نابغہ افراد کی طرح ساحر لکھنو ¿ ی کو بھی ان کی زندگی میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔
کچھ اہل خبر اس بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ایسا اس وجہ سے تھا کہ ساحر صاحب روایتی صف بندی یا گروہ بندی سے دور رہے اور اسی وجہ سے محافل میں بھی شرکت کم ہی ہوتی تھی اور پھر ساحر صاحب جس مزاج کے انسان تھے ، آج کل کی محافل میں یہ مزاج کم ہی برداشت کیا جاتا ہے۔ لیکن اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح باخبر ساحر لکھنو ی نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد اپنا ہر لمحہ علم و ادب کی خدمت کے لئے وقف کردیا اور وہ بھی دین و مذہب کے سائبان تلے، کچھ احباب کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو خود کو دیگر حلقوں میں زندہ رکھنے کے لئے اپنے آپ پر ”مذہبی چھاپ“ لگانے سے گریز کرتے ہیں ، مگر ساحر لکھنو ی صاحب نے بغیر کسی مصلحت کے اپنی شناخت مذہب کے دائرے ہی میں بنائی۔ ساحر لکھنو ¿ ی حالات کی سنگینی کا شدت سے احساس کررہے تھے، ملت پر جو حالات کا دباﺅ اور مشکلات تھیں وہ ایک طرف اور دوسری طرف علمی اور ثقافتی انحطاط جس کا شکار تو ساری ہی اقوام تھیں اور ہیں۔ اسی زمانے میں ان کی اہلیہ شدید بیمار اور پھر خود ساحر صاحب بھی کچھ طبیبوں کی غلط تشخیص کے باعث معمولی مریض سے شدید مریض ہوگئے۔ مگر سلام ہو ان کے عزم و ہمت پر اس مرض کے عالم میں زبان و ادب کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ عربی اور فارسی کے بعد دنیا میں رثائی ادب کا سب سے بڑا ذخیرہ اردو میں ہے ، اور ”اردو“ کو دیدہ و دانستہ ختم کرنے کی سازش پر عمل ہورہا ہے۔ اسکولوں کی سطح پر اردو کو برباد کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے، ”ق“ اور”ک“ اور”ز“ اور ”ڑ“ کی تمیز مٹ چکی ہے، ایسے میں کیا کیا جائے کہ نئی نسل میں زبان کی چاشنی منتقل کی جائے اور انہیں واپس اپنی اصل کی طرف لایا جائے۔
یہ ایک بڑا چیلنج تھا اور اس معرکے کو سر کرنے کے لئے ساحر لکھنو ی اکیلے ہی میدان میں اتر آئے۔ ان کا ایک وژن تھا ایک خواب تھا جسے پورا کرنے کے لئے 1997میں ”آثارو افکار اکیڈمی“ قائم کی۔ جس کا مقصد ہی یہ تھا کہ لکھنے اور پڑھنے والوں کے ذوق و شوق میں اضافہ کیا جائے۔ انہیں ہر سال انعامات سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان انعام یافتہ شخصیات کو دیکھ کر دوسروں میں بھی شوق پیدا ہو اور جب مقابلے اور مسابقے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو خوب سے خوب تر وجود میں آتا ہے۔
جب ساحر صاحب نے آثار و افکار اکیڈمی کے تحت 1998میں پہلی بار ایک ایسے جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا جس میں سال کی بہترین کتابوں کو انعامات سے نوازا جانا تھا تو بہت کم لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ پروگرام اپنے اہداف حاصل کرلے گا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، ایک تو یہ کہ ہر طرف سے یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ اس انعام و اعزاز کی حیثیت کیا ہوگی؟ اس کا اعتبار کیسے قائم ہوگا اور دنیا میں کہاں یہ مستند مانا جائے گا؟ اور دوسری طرف کراچی شہر کے حالات اتنے ابتر تھے کہ ان دنوں صبح سے شام تک فتنہ و فساد برپا رہتا تھا (خیر صورتحال تو اب بھی کوئی مثالی نہیں بس عوام اب عادی ہوگئے ہیں) لیکن حےرت انگیز طور پر سارے اندازے غلط ثابت ہوئے اور وہ پہلا جلسہ اتنا کامیاب جلسہ ہوا کہ راقم الحروف کے خیال میں اس کے بعد والے جلسے بھی بے حد کامیاب رہے مگر پہلے جلسے کی شان ہی کچھ اور تھی اور ساحر صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔ حالانکہ ساحر صاحب کھڑے نہیں ہو سکتے تھے، مسلسل کرسی پر بیٹھ کر پروگرام مانیٹر کررہے تھے اور مسلسل ہدایات بھی جاری کررہے تھے ، شاید یہ اسی پہلے جلسے کی کامیابی کے اثرات تھے کہ ساحر صاحب شدید علالت اور اہلیہ کے مریض ہونے کی وجہ سے شدید ذہنی دباﺅ میں مبتلا ہونے کے باوجود عزم و ہمت کا پہاڑ بن کر انیس بیس سال تک اپنے مشن کو آگے بڑھاتے رہے اور پہلے جلسے کے بعد تو ”آثار و افکار اکیڈمی“ کی اعزازی شیلڈ کو ایسا اعتبار ملا کہ پھر ہر سال مقابلے میں شامل ہونے کے لئے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اپنی تصانیف اور تالیفات بھیجنے لگے اور ادھر ساحر صاحب نے بھی نقد انعامات اور اعزازی شیلڈز میں مسلسل اضافہ شروع کردیا اور بڑوں کے ادب کے ساتھ ساتھ بچوں کا ادب ، قومی جرائد، صحافتی خدمات اور سارے ملک سے تعلیمی میدان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کے لئے انعامات اور متعدد شعبوں کو بھی اس دھارے میں شامل کرلیا۔
2017کے جلسے کے انعقاد کے بعد ساحر صاحب کا مرض شدت اختیار کر گیا، 2018کے جلسے کا اعلان ہونے کے باوجود منعقد نہ ہو سکا۔ طویل علالت کے بعد 2019میں ساحر صاحب نے جہان فانی سے کوچ کیا اور دار بقا کی طرف روانہ ہوگئے۔
ان کے جانے کے بعد اکثر لوگوں کا یہی خیال تھا کہ اب آثار و افکار اکیڈمی کا سفر بھی ختم ہو گیا۔ لیکن کچھ چاہنے والے ایسے بھی تھے جنہیں دن رات یہی فکر دامن گیر تھی کہ ساحر صاحب کا کام آگے بڑھایا جائے۔ اس میں مختلف لوگ مختلف آرا ء رکھتے تھے ، کچھ کا خیال تھا کہ اس اکیڈمی کو کسی اور ادارے میں ضم کردیا جائے، کچھ چاہتے تھے کہ اس اکیڈمی کو اسی نام سے کسی اور کے حوالے کردیا جائے۔ یہ ساری آراء خلوص پر مبنی تھیں لیکن اس طرح کرنے میں کچھ قباحتیں تھیں سب سے بڑی قباحت تو یہ کہ ایسا کرنا ایک طرح سے اس بات کا اعلان کرنا تھا کہ اب ان کے وارثوں میں کوئی اتنی لیاقت کا حامل نہیں کہ اس ادارے کو چلا سکے ، دوسری قباحت یہ کہ ساحر صاحب کے اغراض و مقاصد سے ہٹ جانے یا ترمیم و تنسیخ کا یقینی خطرہ موجود تھا اور وہ بھی کئی طرح کے مسائل جن کا ذکر فی الحال غیر ضروری ہے۔
خاندان کے افراد نے ان مسائل پر خوب غور و فکر اور مشاورت جاری رکھی ، اور پھر ماشاءاللہ ساحر صاحب کے دانشمند فرزند یعنی دانش مہدی نے جس احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے حل بھی سامنے رکھے تو مجھے یقین ہے کہ ساحر صاحب کی روح خوش ہو گئی ہوگی اور اہل قلم کے ساتھ ساتھ تمام چاہنے والوں کے لئے یہ خبر خوشی اور اطمینان کا باعث ہوگی کہ ساحر صاحب کی علالت اور پھر رحلت کے باعث جو سلسلہ وقتی طور پر رک گیا تھا 2021یعنی جاری سال ہی میں دوبارہ شروع ہونے جارہا ہے۔ دانش مہدی اور خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ اس سلسلے کے دوبارہ آغاز میں ساحر صاحب کے قریبی چاہنے والوں کی دعائیں اور مساعی بھی شامل ہیں ، انشاءاللہ اب یہ سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے تو اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیشہ جاری رہے اور خوب سے خوب تر کی طرف گامزن رہے۔ الہٰی آمین۔
یہ ناچیز اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے پہلے تو صرف مشاورت کی حد تک اکیڈمی کے ہمراہ تھا مگر اب دانش مہدی کے ساتھ کھڑا ہوں اور پوری کوشش ہوگی کہ ہم سب مل کر ساحر لکھنو ¿ی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر آثار و افکار اکیڈمی کو بہتر سے بہتر انداز میں آگے بڑھائیں۔مجھے یقین ہے کہ میری اس تحریر کے بعد وہ تمام احباب جو کسی نہ کسی صورت میں اکیڈمی سے وابستہ تھے خاص طور پر جو باقاعدہ رکن تھے اب واپس آئیں گے اور نئے عزم کے ساتھ سفر کا آغاز کریں گے۔انشاءاللہ


ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular