Fri Oct 09, 2026

طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ

روزانہ کی خبریں

تقویٰ اور حق و باطل میں تمیز


5اگست شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر
تحریر۔ علامہ شہید عارف حسین الحسینی ؒ
تقویٰ کے متعدد اثرات بیان کئے گئے ہیں ان میں سے ایک اثر کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے ”اگر تم متقی بن جاو ¿، اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو خداوند متعال آپ کو فرقان عطا کردے گا۔‘ ‘(سورہ الانفال آیت29) ایک ایسی نورانیت آپ کے دل میں عطا کردے گا جس کے ذریعے آپ حق و باطل کے درمیان تمیز کر سکیں گے۔ یعنی تقویٰ کا ایک اثر یہ ہے کہ انسان کو بصیرت حاصل ہو جاتی ہے اور انسان کی روح روشن ہو جاتی ہے۔ جب انسان کو بصیرت حاصل ہو جائے، جب انسان کا دل نورانیت و روشنی حاصل کرلے تو پھر وہ خود بخود اپنی زندگی میں حق و باطل کے درمیان تمیز کر سکتا ہے اور یہی مشکل مسئلہ ہے کہ بعض اوقات انسان خیال کرتا ہے کہ یہ بات حق ہے، یہ چیز ٹھیک ہے لیکن حقیقت میں وہ باطل ہوتی ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے اور حقیقت میں وہ حق ہوتی ہے ہم ایک دعا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ”اے خدا ہمیں حق کو حق کے لباس میں دکھا دے “ تاکہ ہم اس کی پیروی کریں اور باطل کو باطل کے لباس میں دکھا دے تاکہ ہم اس سے پرہیز کریں اور یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ انسان تشخیص دے سکے کہ یہ ٹھیک ہے اور یہ غلط ہے یہ باطل ہے۔
 جس طرح میڈیکل کے میدان میں اور دنیائے طب میں ماہر اور اچھا ڈاکٹر اسے کہا جاتا ہے جو مرض کو تشخیص دے سکے۔ جب وہ تشخیص دے لے کہ بیمار کا مرض کیا ہے تو پھر علاج معالجہ اتنا مشکل نہیں ہوتا اور اس کے بعد ڈاکٹر مریض کے لئے نسخہ تجویز کر سکتا ہے۔ پس ماہر و حاذق ڈاکٹر و طبیب وہ ہے جو انسان کے مرض کو تشخیص دے سکتا ہے مثال کے طور پر حضرت آیت اللہ العظمیٰ مرحوم سید محسن حکیمؒ کے فرزند گرامی حجتہ الالسلام آقائے سید مہدی حکیم (حجتہ الاسلام و المسلمین سید مہدی الحکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ شہید عارف حسین الحسینیؒ کی اس تقریر کے وقت زندہ تھے لیکن بعد میں شہید حسینی ؒکی زندگی میں ہی عراقی بعث پارٹی کے ہاتھوں سوڈان کے ایک ہوٹل میں شہید ہوگئے) بتا رہے تھے کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے والد بزرگوار نے بتایا کہ انبیاءکرام ؑاور آئمہ اطہار ؑ پر ہر قسم کی بلائیں اور مصیبتیں آئیں اور ان کا زندگی میں ہر قسم کا امتحان ہوا لیکن ایکد چیز کے ساتھ ان کا امتحان نہیں ہوا، ایک مصیبت اور بلا ان پر نہیں آئی اور وہ یہ کہ انہیں اپنی مسو ¿ لیت اور ذمہ داری سے بے خبر نہیں رکھا گیا یعنی انہیں یہ واضح نہ ہو کہ اس وقت انہیں کیا کرنا ہے کیونکہ نبی اور امام کو اپنی مسو ¿لیت معلوم ہوتی ہے۔
امام حسین ؑ کو معلوم تھا کہ مجھے کربلا جانا ہے اور ان کو پتہ تھا کہ مثلاً مجھے عاشورہ کے دن یہ قربانی دینا ہے ، امیر المومنین علی ؑ کو علم تھا کہ مجھے انیس رمضان المبارک کی شب کو مسجد میں جانا ہے ، حضرت ابراہیم ؑ جانتے تھے کہ خدا مجھ سے ہی چاہتا ہے کہ میں آگ میں کود جاو ¿ں ، امام رضا ؑ خود جانتے ہیں کہ خدا کی رضا اس میں ہے کہ میں انگور کھاو ¿ں کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ کس وقت کیا کرنا ہے؟ انسان کے لئے اپنی تکلیف شرعی معین نہ ہو، یہ مشکل اور مصیبت ان کے لئے نہیں تھی لیکن یہ مصیبت و بلا اور امتحان ہمارے لئے ہے کہ ابھی اس وقت اگر ہم میدان میں آئیں اور لوگوں کو میدان میں بلائیں اور فرض کریں کہ ان پر فائرنگ ہو جائے کچھ افراد قتل ہو جائیں تو آیا ہمارا وظیفہ یہ ہے کہ ہم ضرور میدان میں آئیں اگرچہ لوگ قتل ہی کیوں نہ ہو جائیں یا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے؟ پس یہ مشکل ہمارے لئے ہے۔ لہٰذا اس مشکل مرحلے کے لئے خداوند متعال فرماتے ہیں : اگر تم نے تقویٰ اختیار کیا اور تم متقی بن گئے تو آپ کا یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا پھر آپ کے لئے خداوند متعال غیبی طور پر ایک چیز آپ کے دل میں عطا کردے گا، ایک نور عطا کرے گا اور آپ کے دل و روح کو ایسی نورانیت عطا کرے گا جس کے نتیجے میں آپ کے لئے راستہ واضح اور مشخص ہو جائے گا۔ پھر آپ حق اور باطل کے درمیان تشخیص دے سکیں گے۔ اس ضمن میں فقط ایک آیت ہی نہیں ہے بلکہ اس آیت کے علاوہ دوسری کئی احادیث بھی موجود ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے : تم لوگ اپنے نفسوں کے ساتھ جہاد کرو تاکہ تمہارے دلوں میں حکمت الہیہ آجائے اور اس حکمت الہیہ کے نتیجے میں آپ حق اور باطل کے درمیان تمیز کر سکیں۔ ایک دوسری مشہور حدیث ہے کہ : جس شخص نے خدا کے لئے چالیس دن عمل خالص انجام دیا اور ان چالیس دنوں میں سوائے خدا کے کسی اور کے لئے اس نے عبادت نہیں کی ، خالص اللہ کی بندگی کی تو اس کے دل سے ان کی زبان پر حکمت کا چشمہ جاری ہو جائے گا تو پھر حکمت کی روشنی کے نتیجے میں انسان اپنی تکلیف شرعی معین کر سکتا ہے کہ میری کیا ذمہ داری ہے؟
ایک اور مقام پر حضرت امام محمد باقر ؑ سے نقل ہے کہ : امام ؑ فرماتے ہیں کہ ایک بندے نے چالیس روز تک ایمان کو خدا کے لئے خالص نہیں کیا یا امام ؑ نے یوں فرمایا (یہ تردید راوی کی طرف سے ہے) کہ ایک بندے نے خدا کے ذکر کو چالیس دن بہترین طریقے سے انجام نہیں دیا مگر یہ کہ خداوند متعال ان چالیس دن کے بعد اس بندے کو دنیا میں زاہد قرار دے دے گا یعنی اس شخص کے دل میں یہ دنیاوی مال و متاع ، دولت و ثروت، مقام و کرسی یہ سب چیزیں بے وقعت ہو جائیں گی۔ خداوند متعال اس بندے کو اس دنیا کے درد و درمان سے بھی آگاہ کردے گا اس چالیس دن کی عبادت کے نتیجے میں اس بندے کو خدا اس دنیا کا درد بھی بتلا دے گا اور پھر ان دردوں کا علاج بھی۔ پھر اس کے بعد اس بندے کے دل میں خدا کی حکمت الہیہ کو محکم کردے گا اور پھر اس شخص کی زبان پر خداوند متعال حکمت جاری کردے گا اسی کی زبان سے حکمت کی باتیں نکلوادے گا، ان احادیث کے پڑھنے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ تقویٰ کے نتیجے میں انسان کو بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ تقویٰ کے نتیجے میں انسان کے دل کو نورانیت عطا کی جاتی ہے، تقویٰ کے نتیجے میں انسان کے دل سے حکمت کے سرچشمے جاری ہو جاتے ہیں ، اس کے بعد انسان اس زندگی میں اس دنیا میں صحیح طور پر زندگی گزار سکتا ہے کہ وہ جان لیتا ہے کہ یہ چیزیں میری مصلحت میں ہیں اور یہ چیزیں میرے ضرر میں ، یہ حق ہے اور یہ باطل۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular