
انقرہ : ترکی ایک بار پھر اسرائیل کی گود میں جابیٹھا۔ صیہونی صدر اسحاق ہرتزوگ انقرہ کے صدارتی محل پہنچے تو صدر اردوان نے ان کا استقبال کیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ترک بینڈ نے 2008 کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیلی ترانہ بھی بجایا صیہونی صدر اسحاق ہرتزوگ ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے لیے ترکی پہنچے، وہ گزشتہ 14 برس میں انقرہ پہنچنے والے پہلے اسرائیلی سربراہ مملکت ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملک مشکلات کا شکار اپنے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کرنا چاہ رہے ہیں, اسرائیل اور ترکی کا حالیہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انقرہ اپنی بین الاقوامی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے متعدد ملکوں سے تعلقات بہتر کر رہا ہے۔اپنے دورے سے قبل کی گئی گفتگو میں صیہونی صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں بہت سے اتار چڑھاؤ کے بعد ہم ہر بات پر متفق نہیں ہو سکتے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان یکساں احترام کی بنیاد پر انہیں نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسرائیلی صدر کے انقرہ پہنچنے پر استبنول میں احتجاج بھی کیا گیا۔ احتجاج میں غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا کا اہتمام کرنے والے ترک امدادی ادارے آئی ایچ ایچ کے رضاکار بھی شامل تھے۔


































