
سربراہ پاکستان ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے جودھ پور میں گیارہ پاکستانی ہندوؤں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، بھارت اس کا حساب دے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب قانونی نقطے سے بھی کیس لڑیں گے، ہماری آئندہ کی حکمت عملی کیا ہو گی اس حوالے سے جلد موقف پہش کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں رام مندر بناتے وقت مجھے بلایا گیا، میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ اللہ کا گھر گرا کر مندر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے کم وقت کی کال پر ہندبرادری کا اسلام آباد میں اکٹھا ہونا قابل تحسین ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ ہندو براردری کی طرف سے اسلام آباد میں دھرنے کا مقصد احتجاج ریکارڈ کرانا تھا، بھارتی ہائی کمیشن جا کر احتجاجی قرارداد پیش کی ہے، انتظامیہ نے جلد دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی جسے قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ 9 اگست کو بھارت میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی میڈیا نے کہا تھا کہ پاکستان سے جانے والے ہندو راجستھان کے ضلع جودھپور میں رہائش پذیر تھے، جاں بحق ہونے والے پورے خاندان کا صرف ایک فرد ہی زندہ بچا تھا۔


































