
فروری میں انسانی حقوق کی 408خلاف ورزیاں،37 جبری گرفتاریاں اور گھروں پر حملہ کرنے کی46 وارداتیں،11 افراد کو طلب کیا گیا،جمعیت الوفاق
انسانی حقوق کے محافظوں کو سزائے موت ختم ، تشدد اور جبربند کیا جائے، یورپی پارلیمنٹ میں قرارداد، 26 سیاسی قیدیوں کی پھانسی معطل کرنے پر زور
مناما (نیوز ڈیسک) بحرین پر سعودی لشکر کشی کوعشرہ مکمل ہوگیا اور اس دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنی انتہا کو پہنچ گئیں، جس میں جبری گرفتاریاں اور غیر منصفانہ طریقے سے مقدمات دائر کرنے جیسے اقدامات شامل رہے،جمعیت الوفاق کے مطابق فروری میں انسانی حقوق کی 408خلاف ورزیاں کی گئیں، جن میں 37 جبری گرفتاریاں اور گھروں پر حملہ کرنے کی46 وارداتیں شامل ہیں، گرفتار کئے گئے افراد میں کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق حکومتی عہدیداروں نے11 افراد کو طلب کرکے بازپرس کی جس میں 13 سالہ دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو نوجوانوں سمیت تین بحری شہریوں کو جبری گمشدہ کردیا گیا، سعودی عرب نے 14 مارچ 2011 کو آمریت کے خلاف عوامی تحریک کو کچلنے کیلئے بحرین میں اپنی فوجیں اتاری تھیں ،ادھر یورپی پارلیمنٹ نے بحرین میں انسانی حقوق کے محافظوں کو سزائے موت ، تشدد اور جبر کی مذمت کرتے ہوئے قراردادمنظور کرلی، پارلیمنٹ کے 689 ارکان میں سے 633 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، یورپی سفیروں نے منامہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حزب اختلاف کے ارکین کی سزائے موت پر دوبارہ غور کریں اور انسانی حقوق سے متاثرہ افراد کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق سلوک کریں، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں اس وقت 26 قیدی پھانسی کے منتظر ہیں اور بحرین کی حکومت کو پھانسیوں کو معطل کرنا ہوگا۔


































